(ملفوظ 151)سائلوں کو چار آنے دینا :

دوسائلوں نے آکرحضرت والا سے سوال کیا فرمایا کہ اگردوچار پیسہ لیکرتم خوش ہوجاؤ تو پیش کردوں اس پر وہ خاموش رہے فرمایا کہ جیسے میں نے صاف کہہ دیا تم بھی کہہ دو کہ ہمیں منظور ہے یا نہیں عرض کیا کہ جومرضی ہوفرمایا کہ یہ جملہ تمہارا مہمل ہے صاف نہیں ہے اس پراس سائل نے کہا کہ منظور ہے فرمایا کہ اب بات صاف ہوئی اورچار آنہ دے کرفرمایا کہ کبھی کسی کو دق مت کیا کرو صاف بات کہا کرو وہ سائل کے کرنہایت مسرت کے لہجے میں دعائیں دیتا ہوا چلا گیا حضرت والا نے اہل مجلس کی طرف مخاطب ہوکر فرمایا کہ اگر میں پیشتری ہی دو چار آنہ کہتا توان چار آنوں پران کو یہ مسرت نہ ہوتی جواب ہوئی میں ان کی نبضیں پہچانتا ہوں اب خوش بخوش چلے گئے ۔