ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت میں جس وقت تھا نہ بھون آنے کے ارادہ سے چلا تو ایک جج صاحب جو ذاکر شاغل ہیں مجھ سے کہنے لگے آپ وہاں جارہے ہیں
واپس میں ایک تعویذ حضرات سے لیتے آیئے گا جس سے اللہ کی محبت پیدا ہو اور سلوک ہو جائے فرمایا کہ نا واقفیت کی بات ہے اتنی معلوم ہو ا کہ طلب ہے مگر نا واقف ہیں اگر تعویز سے سلوک طے ہو ا کرتا تو ان مجاہدات اور ریاضات کی کیا ضرورت تھی اور اس ناواقفی میں ان عوام بیچاروں کا کوئی قصور نہیں اس راہ میں راہزن اس قدر پیدا ہوگئے کہ حقائق پر پردہ پڑ گیا ان دکاندارو ں کی بدولت حقیقت طریق گم ہوگئی مگر بحمداللہ اب مدتوں کے بعد پھر وضوع کا ہو ا اور حقیقت کا انکشاف ہو ا۔
