(ملفوظ 165)سمجھانے اورلٹھ مارنے میں فرق :

ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت بعض لوگ ختم میں ایسے بھی دعاء کرانے آتےہیں جو واقع میں ظالم ہوتے ہیں مثلا ابتداء میں خود مار پیٹ کی اور پھر دعاء چاہتے ہیں ایسے لوگوں کی رقم مدختم میں داخل کرانا چاہئے یا نہیں اور ان کے لئے دعاء کرنا جائز ہے یا نہیں ایسی حالت میں طالبان دعاء سے کیا کہہ دیا کروں فرمایا کہ تم صرف یہ جواب دیدیا کرو کہ بھائی اول واقعہ بیان کرکے کسی علم سے حکم شرعی پوچھ لوکہ اس کے لئے دعاء جائز ہے یا نہیں اگروہ کہہ دیں اورہم کوبھی ان کی زبان سے سنواوو توہم دعاء کردیں گے غرض کیا کہ میں توعذر کردیتا ہوں فرمایا کہ ایک تولٹھ سامارنا ہوتا ہے اور ایک سمجھانا ہوتا ہے توعذر کی تفصیل بیان کردینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ بھی تو سمجھ جائے ۔