(ملفوظ 113) ثواب پہنچانے کی حقیقت :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بدعتیوں میں دین توہوتا نہیں یوں ہی اڑنگ بڑنگ ہانکتے رہتے ہیں کثرت سے دو باتیں ایجاد کررکھی ہیں جن کی نہ کوئی اصل معقول ہے اور نہ کوئی دلیل منقول ایک صاحب نے جوبدعتی ہونے کے ساتھ جنٹلمین انگریزی خواں بھی تھے ایصال ثواب پرمجھ سے گفتگو کی اور فاتحہ جوکھانے پرہوتی ہے اس کے متعلق سوال کیا میں نے دریافت کیا کہ ثواب پہنچانے کی حقیقت کیا ہے کہ ایک چیز کا ثواب ہم کو ملا ہم نے اس کو دوسرے کو پہنچادیا میں نے کہا کہ کھانا کھلانے سے یا دینے سے قبل ظاہر ہے کوئی ثواب کا عمل صادر ہی نہیں ہوا اس لئے ثواب بھی آپ کو نہیں ملا پھر کیا چیز پہنچاتے ہو ظاہر ہے کہ دیگ میں نکال کر طشت میں رکھنے پرتو کوئی ثواب ملا نہیں جس کو پہنچایا گیا پس گم ہوگئے اسی طرح ایک گاؤں کا شخص میرے پاس آیا اور کہا ک اجی مولوی جی کھانے پرہاتھ اٹھاکر فاتحہ پڑھنا کیسا ہے میں نے کہا کہ تم نے اللہ واسطے کبھی کپڑا دیا ہوگا کیا اس پربھی فاتحہ پڑھوائی تھی سواس میں اور اس میں کیا فرق ہے پھر میں نے دریافت کیا کہ تمہاری یہاں کولہوں ہے جس میں گنے کا رس نکلتا ہےکہا کہ ہے میں نے کہا رس نکالنے کے بعد اس کے چھلکے یعنی کھوئی مسجد میں پانی گرم کرنے کےلئے کبھی دیتے ہوکیا اس پر بھی فاتحہ پڑھتے ہویا پڑھواتے ہوسمجھ میں آگئی بہت ہی خوش ہوا اور روز سے ہنسا کہنے لگا واقعی یہ ساری باتیں بیوقوفی ہی کی ہیں غرض بدعت کی باتیں خود صریح طور پرعقل کے بھی خلاف ہیں مگر تسویل نفسانی (نفس کے دھوکہ دینے ) کہ وجہ سے اس وقت سنت اوربدعت میں فرق کرنا پڑا مشکل ہوگیا جس کے سمجھنے میں اہل علم تک گڑبڑ میں پڑجاتے ہیں چنانچہ ایک طالب علم ان رسوم کے مانع تھے دوسرے مجوز (جائز کہنے والے ) ان مجوز نے کہا کہ یہ ماتعین کا سوء ظن ہے کہ فاعلین کے عقیدہ کو فاسد سمجھتے ہیں ان کے عنوان کو مت دیکھو ان کی نیت بری نہیں وہ جوکہتے ہیں کہ یہ نیاز ہے فلاں بزرگ کی مراد یہ ہوتی ہےکہ نیاز اللہ کی اور ایصال ثواب ان بزرگ کومانع کہتا تھا کہ نیت ہی بری ہوتی ہے یہ گفتگو ایک مسجد میں ہورہی تھی کہ ایک بڑھیا کچھ مٹھائی وغیرہ لئے ہوئے آئی اور مقیم مسجد ایک طالب علم سےکہا کہ بیٹا اس پر بڑے پیرکی نیاز دے دو مانع نے امتحانا کہا کہ بڑی بی نیاز تواللہ کی ہوا اور ثواب بخش دیں بڑے پیر صاحب کوتو بڑھیا کیا کہتی ہے کہ نیاز دیدو اس وقت مانع نے مجوز سےکہا اب اپنی تاویل کودیکھ لوبڑی بی اس کو کس طرح رد کررہی ہے یہ سب خرابیاں کھانے پینے والوں کی بدولت ہورہی ہیں وہ ان تدابیر سے حلوے خوب اڑاتے ہیں بلکہ ساتھ میں حسینو ں کے جلوئے بھی کیونکہ اکثر جاہل عورتیں ایسی چیزیں لےکرآتی ہیں بڑے ہی بددین ہیں ایک ملاکی حکایت سنی ہے کہ ایک گاؤں میں ایک مسجد تھی اس میں ایک مالارہتا تھا ایک بڑھیا فاتحہ کا کھاملانے کے لئے لائی اتفاق سے اس وقت ملامسجد میں تھا نہیں ایک مسافر مسجد میں ٹھہرا ہواتھا اس عورت نے اول ملاکو آوازدی جب وہ نہ بولایہ خیال کیا کہ مقصود تو ثواب ہےلاؤ اسی مسافر کو دیدو چنانچہ وہ چیز کھانے کی مسافر کو دے کرجلدی یہ مسجد کے دروازہ سے نکلی ہی تھی کہ ملا آگیا اس عورت سے دریافت کیا کہاں آئی تھی کہا کہ فلاں چیز کھانے کی لائی تھی مگر تم نہ تھے اس لئے مسافروں کودےکر چلی آئی یہ سن کرملائے آگ لگ گئی اورخیال کیا کہ بری راہ نکلی اب ہماری تخصیص مٹ جائے گی مسجد میں پہنچا اور ایک ہاتھ میں لٹھ لےکر تمام مسجد کےصحن میں دیوانوں کی طرح مارتا پھرنے لگا اور اخیر میں خود دہڑام سے گرگیا گاؤں والے جمع ہوگئے سوال کرنے پرکہا کہ بس اب میرا یہاں گذر نہیں اورکہیں جار رہا ہوں لوگوں نے وجہ پوچھی کہا کہ بات یہ ہے کہ میں تویہاں کے مردوں کو پہچانتا ہوں مسافر پہچانتا نہیں جب مردے جمع ہوئے اس مسافر نے تقسیم میں گڑبڑکی اس کو تونا واقف سمجھ کرکچھ بولے نہیں جب میں آیا میرے سرہو گئے مجھ کو لپٹ گئے میں نے کتنا ہی ہٹایا لٹھ بجایا کہ جب مجھے دی ہی نہیں میں تم کو کہاں سے دوں مگر ایک نہ سنی آخرسب نے مل کرمجھ کو گرادیا اب اگر ہمیشہ ایسا ہی ہو امیں تو مرجاؤں گا اس لئے جاتا ہوں دوسری جگہ گاؤں والے بیچاروں نے متفق ہوکر کہا کہ بس جی ملا ہی کو دیا کرینگے یہ کماؤ لوگ ایسے شریر ہوتے ہیں ملا پر ایک حکایت اور یاد آئی ایک عورت نے کھیر پکائی اتار کررکابی میں رکھی کتا آیا منہ ڈال گیا عورت نے اپنے بچے سے کہا کہ جایہ مسجد کے ملا کودے آ، وہ لیکر گیا ملا کونہ معلوم کے روز میں کھیرملی تھی بچے کے ہاتھ سے لیتے ہی ایک طرف سے کھانا شروع کردی بچے نےکہا ملاجی ادھر سے نہ کھائیو ادہر کتے نے منہ ڈالدیا تھا ملاجی نے نہ سن کرہاتھ سے رکابی پھینک کرماری وہ رکابی ٹوٹ گئی بچہ رونے لگا ملاجی نے دریافت کیا کہ تو کیوں روتا ہے کہاکہ تم نے رکابی پھوڑدی مجھ کو میری ماں مارے گی یہ تو میرے بھیا کے پاخانہ اٹھانے کی رکابی تھی یہ حالت ان کے عوام وخواص کی ہے اسی طرح کی حالت آج کل کے کماؤ پیروں کی ہے ایک ایسے ہی گاؤں میں پیراپنے مریدوں میں گئے ایک مریدنی گنواری کے یہاں ٹھہرے ایک دوسری گنواری مریدنی آئی کہ شام کو میرے یہاں ٹھہر ے ہیں میرا حق ہے اختلاف ہونے لگا تو دونوں کے اتفاق سے پیر صاحب حکم سے کہا کہ بھائی ٹھہرا ہوں اسی کے یہاں کھانا مناسب ہے آنے والی بولی اچھی بات مگر میں نے مرغ کاٹاتھا یہ سن کر پیر پھسل گئے اور گھروالی سے کہا کہ خیر اسی کو اجازت دیدے وہ ان سے کیا کہتی جھلاکر آنیوالی سے کہا جاتوہی پیرسے یوں توں کرالیجوبس یہ حالت ہے اسی لیے ان نالائقوں کی قدر منزلت بھی ایسی ہی ہوتی ہے ایک گاؤں میں اناج کی تیاری پرسب کمیوں کا حق نکالا جارہا تھا جب اناج اٹھانے لگے توایک چودھری نے جو اس تقسیم کو دیکھ رہا تھا یوں کہا کہ ارے سب کمیوں کا حق تو نکالا مگر اس سہرے پیر کا بھی حق نکال دو وہ آوے گا ایسے نالائقوں کی سزا یہی ہے خیر یہ تو جاہل لوگ تھے جن کے واقعات ہیں باقی زیادہ افسوس بعض علماء کی حالت پرہے کہ اغراض کی بدولت راہ سے بھی گرگئے نظر سے بھی گرگئے عوام کوان سے بد گمانی ہونے لگی اگرعلماء اپنی آن بان کو باقی رکھتے توان کی بڑی قدر ہوتی اور ان پر اعتماد بھی ہوتا مگر یہ بھی پھسلنے لگے بس ان کے پھسلنے پرزیادہ ررنج ہے اس لئے کہ ان کے پھسلنے سے عوام کے گمراہ ہونے کا سخت اندیشہ ہے اس ہی لئے میں ہمیشہ اس کی کوشش کرتا ہوں کہ علماء سے لوگ بدظن نہ ہوں ان کے ساتھ مربوط رہیں کہ ان کے دین کی سلامتی اسی میں منحصر ہے اس بداعتمادی پرایک واقعہ یاد آیا کہ ایک بڑی بی نے مجھ سے مسئلہ پوچھا کہ زکوۃ کا روپیہ ہے تاکہ وہ اس کے مصرف میں صرف کردیں وہ خوش ہوئیں اورکہا کہ مدرسہ میں جومولوی صاحب ہیں میں نے ان سے بھی پوچھا تھا انہوں نے بھی یہ ہی بتلایا تھا مگر مجھ کو اطمینان نہ ہو ا تھا کہ شاید اپنے مدرسہ کی غرض سے بتلا دیا ہو اسلئے میں نے یہ خیال کیا کہ کسی بہرے تبولے سے (یعنی غنی مستغنی ٰ سے ) پوچھوں بتلائیے یہ بدگمانی کس درجہ کی بات ہے پھر جب اہل علم پر اعتماد نہ ہوگا تومسائل کس سے پوچھیں گے اسی لئے میں کہا کرتا ہوں کہ علماء کو بہت سنبھل کررہنے کی ضرورت ہےبلکہ ان جاہل صوفیوں اوردرویشوں کی حرکات سے اس قدر عوام کی گمراہی کا اندیشہ ہے جس قدر اہل علم اورعلماء کے پھسل جانے سے اندیشہ گمراہی کا ہے ان کو بہت سنبھل کرچلنے کی ضرورت ہے ۔