ایک صاحب کا تذکرہ ہوا فرمایا کہ کس ذوق سے تو لوگ تعلق پیدا کرتے ہیں اور کچھ نہیں لوگ سیر ہوتے ہیں اسی سیری کی مذمت میں کہتے ہیں ۔
مصلحت نیست مراسیری ازاں آب حیات ٭ ضاعف اللہ بہ کل زمان عطشی
(اوس آب حیات سے خدا کرے اوس آب حیات کی پیاس مجھے ہردم بڑھتی ہی رہے ) ۔
فرمایا اگر ولی طلب نہ ہوتا ظاہری نباہ ہی ہوتو یہ سہی پھرنباہ سے اکثر طلب بھی پیدا ہو فاتی ہے شرم آنا چاہے کہ صرار کرکے تو تعلق پیدا کیا دوسرا انکار کررہا تھا اب صعف تعلق پروہ کیا کہے گا یہی سمجھ کرنباہ کرے ۔
