فرمایا کہ ایک صاحب کا خط آیا تھا امراض باطنی کے متعلق لکھا تھا کہ فلاں مرض ہے اس کا سہل علاج بتلادیجئے میں نے لکھ دیا کہ طالب کو حق نہیں کہ وہ
سہولت کی درخواست کرے اس پر فرمایا کہ لوگ مجاہدہ سے گھبراتے ہیں اس کی ایسی مثال ہے اگرکوئی کسی عورت پر عاشق ہوجائے اور وہ عورت کچھ شرائط وصل کے
بتلائے اور اس پر یہ عاشق کہے کہ اگرملنا چاہو تو سہولت سے مل جاؤ ورنہ جانے دو تو کیا یہ عاشق کہلائے جانے کے قابل ہے نیز ایسی درخواست کرنا خلاف ادب بھی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ شیخ سے تعلیم حاصل کرنا مقصود نہیں بلکہ الٹی شیخ کو تعلیم دینا مقصود ہے شیخ کو شیخ ہی نہیں سمجھتا کیونکہ جس شخص کو اتنی بھی خبرنہ ہو کہ اس تعلیم سے طالب پرمشقت ہوگی وہ شیخ ہی کب ہے سوشیخ توخود ہی شفقت کی بناء پرسہل علاج تجویز کرتا ہے مگر ضرورت کے موقع پرخود شیخ بھی مجبور ہوجاتا ہے کیونکہ بعض امراض کا ازالہ سخت مجاہدات ہی سے ہوتا ہے جیسے بعض امراض جسمانیہ میں طبیب مجبور ہے کہ شاہترہ اور چرائتہ کلو اور بیخ حنظل کے بخار اورسوداویت کا علاج مشکل ہوتا ہے بہرحال طالب کو حق نہیں کہ وہ سہولت یا سختی کی درخوات کرے جیسے مریض جیسے مریض کو حق نہیں طبیب کے پاس جاکر کہے ایسا نسخہ تجویزکردیجئے جو میٹھا ہوکر وانہ ہو سیٹہا نہ ہوا اگر ایسا کرے تو طبیب کیا خاک علاج کرے گا ۔
