( ملفوظ 248)سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کتاب میں ایک گستاخی

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک صاحب نے سیرت نبویہ لکھی ہے ـ اس میں لکھا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی کامیابی کا بڑا راز یہ ہے کہ ان میں استقلال تھا اور اسکی زندہ نظیر گاندی موجود ہے استغفراللہ نعوذ باللہ سیرت پر کتاب اور ایک مکذب توحید و رسالت سے تشبیہ کیا ـ آفت ہے نہ معلوم کتنے مسلمانوں نے دیکھا ہوگا اور گمراہی میں پھنسے ہوں گے ـ میرے پاس بھی وہ کتاب بھیجی گئی تھی میں نے واپس کے کے لکھ دیا کہ ایسی کتاب کو اپنے پاس رکھنا نہیں چاہتا ہوں ـ کہ جس میں روح سیرت یعنی نبوت کے مکذب کی مدح ہو ـ اس کو جواب آیا کہ یہ زمانہ جاہلیت میں مجھ سے ایسی حرکت صادر ہوئی اب آتے جاتے ہیں ـ اپنے پہلے زمانہ کو جاہلیت سے تعبیر کیا ـ یہ سب جدید تعلم یا صحبت کا اثر ہے ـ اس پر کہتے ہیں کہ یہ لوگ اس کو نئی روشنی کہتے ہیں ـ جس میں ہزاروں ظلمتیں بھری ہیں ـ