ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج صبح صاحب نے گڑبڑ کی اوراب بھی خواجہ صاحب کے واسطے کے گفتگو کی انہوں نے ایک صاف بات کوکس قدر الجھایا قلوب میں صفائی نہیں رہی حالانکہ میرے گفتگو نہایت کافی تھی معلوم ہوتا ہے کہ سمجھنے کا قصد اور ارادہ ہی نہیں کرتے خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ فلاں صاحب جوبعد نماز فجر ملے تھے ان کی خوش فہمی پراور سمجھ کی باتوں پرحضرت والا نے ان کو شاباشی دی فرمایا کہ دیکھ لیجئے گا شاباشی کی بات پرشاباشی ملتی ہے خدابخواستہ کوئی آنے والوں سے مجھ کو عداوت تھوڑا ہی ہے وہ لوگ جیسا برتاؤ کرتے ہیں ویسا ہی ان کے ساتھ معاملہ کیا جاتا ہے اسی سے میری سختی اور عدم سختی کا ابدازہ ہوسکتا ہے ۔
