( ملفوظ 139 ) شہادت کے معتبر ہونے کی شرط

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ یہ جو علی الاطلاق مشہور ہے کہ ہر معاملہ میں دو شہادت کافی ہیں – فی نفسہ تو صحیح ہے مگر اسکا اطلاق غلط ہے خود شہادت کے شہادت ہونے میں یہ شرط ہے کہ مدعی قاضی کے یہاں دعوی کرے اور قاضی مدعی علیہ کو طلب کرے ـ اس وقت جو شہادت بر سر اجلاس ہوگی وہ معتبر ہوگی اور بدون اس کے دو تو کیا اگر دس آدمی بھی کہا کریں تو حجت شرعیہ نہیں حتی کہ وہ شہادت بھی معتبر نہیں جو حاکم وقت یعنی قاضی کے مکان پر ہوا ـ اجلاس پر نہ ہو ـ غرض شہادت عدالتی معتبر ہے ـ خانکی شہادت حجتہ نہیں دیانات میں معتبر ہے مگر احکام قضا میں معتبر نہیں علی الاطلاق حجیت کا اعتقاد غلط ہے ـ اسی طرح دعوی میں شرط ہے ـ مدعی ذاتی علم کی بناء پر دعوی کرے محض سنی ہوئی روایت پر دعوی نہیں کر سکتا ـ اگر کرے گا مسموع نہ ہوگا ـ حتیٰ کہ سنی ہوئی روایت پر دعویٰ کرنے میں قاضی مدعا علیہ کو طلب نہ کریگا ـ