ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ شاہجہان نے طاؤس بنوایا تھا ، وہ تخت اس وقت یورپ میں ہے بہت ہی قیمتی تخت ہے کئی لاکھ روپیہ صرف ہوا تھا جس وقت یہ تخت بن کر تیار ہوا اور شاہجہان اس تخت پر بیٹھے ہیں ان کے وزیر سعدللہ خاں پانی کے رہنے والے اپنی آستین میں ایک چھرا رکھ کر دربار میں حاضر ہوئے شاہجہان نے تخت پر اول دو رکعت نفل شکرانہ ادا کیا اور عرض کیا کہ اے اللہ فرعون کو تخت آپ نے عطاء فرمایا تو اس نے خدائی کا دعویٰ کیا اور مجھ کو عطا فرمایا تو میں آپ کی بندگی ادا کر رہا ہوں یہ مجھ پر آپ کا فضل اور رحمت ہے پھر سعدللہ خان سے چھرا لانیکی مصلحت پوچھی یہ سن کر سعداللہ خان نے عرض کیا کہ مصلحت یہ تھی کہ اگر آج تخت پر بیٹھ کر کوئی کبر کا کلمہ آپ کے منہ سے نکلتا جس سے آگے کفر اندیشہ ہوتا تو کلمہ کفر نکلنے سے پہلے آپ کا کام تمام کردیتا اس لئے کہ میں نے آپ کا نمک کھایا تھا اس کو حلال کرتا گو اس کے عوض میں دوزخ ہی میں چلا جاتا مگر آپ کو کفریات سے متلبس نہ ہونے دیتا اس پر شاہجہان بہت خوش ہوئے اور سعداللہ خاں کی بڑی عزت اور قدر کی ـ
