( ملفوظ 119 ) شاعری کا جواز اور اس کی حدود

ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت شاعری ناجائز ہے فرمایا کہ نا جائز تو نہیں لیکن بعضی شاعروں کے اکثر مضامین خلاف شریعت ہوتے ہیں اس وجہ سے ان کے لئے بیشک ، ناجائز ہے اسی طرح اگر غلو انہماک زیادہ ہو جاوے اس کو بھی منع کیا جاوے گا ایک شاعر تھے اگر نماز میں کوئی شعر یاد آجاتا تو نماز توڑ کر اس کو لکھ لیتے کسی نے کہا یہ کیا کہا کہ نماز کو تو قضاء ہے مگر شعر کی قضاء نہیں اکثر جاہل شعراء کے یہاں تو اشعار میں کوئی حد ہی نہیں کسی غالی کا شعر ہے ـ
پئے تسکین خاطر صورت پیراہن یوسف محمد کو جو بھیجا حق نے سایہ رکھ لیا قد کا
جیسے یعقوب علیہ السلام نے یوسف علیہ السلام کا پراہن رکھ لیا تھا نعوذباللہ اسی طرح حق تعالی نے حضور کا سایہ رکھ لیا تو حق تعالی کو یعقوب علیہ السلام پر قیاس کیا نعوذباللہ اب کہاں تک ان مضامین کو جائز کہا جا سکتا ہے باقی سایہ نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اکثر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک ابر کا سایہ رہتا تھا پھر سایہ کیسے ہوتا کبھی کبھی ابر نہ بھی ہوتا تھا چناچہ حدیث شریف میں ایک صحابہ کا آپ پر کپڑے کا سایہ کرنا بھی ثابت ہے اس سے معلوم ہوا کہ ابر کا سایہ بھی دائمی نہ تھا ـ