( ملفوظ 261)شمشیر و سناں اول

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مسلمانوں کی اصلی کام نہ زراعت ہے نہ تجارت ہے ان کا کام تو شمشیر زنی ہے اور تجارت وغیرہ کے کام تو ہندوؤں کے ہیں ـ ایک صاحب نے بیان کیا کہ مسلمان ڈنڈی نہیں اٹھا سکتے ـ ان کا کام حکومت تھا ـ اگر کہیں مقابلہ کا مقابلہ ہو یا پولیس اور فوج میں بھرتی کی ضرورت ہو یہ کام ان کا ہے اور ڈنڈی اٹھانے کا کام ہندوؤں کا فرمایا کہ اس کا ایک راز ہے وہ فطری مناسبت اسی چیز سے ہوتی ہے جو آباء اجداد کا پیشہ ہو ـ چناچہ مسلمانوں میں بھی بعض ایسی نو مسلم قومیں ہیں جن کا آبائی پیشہ تجارت ہے ان کو اصول تجارت خوب یاد ہیں قریب قریب تمام قوم متمول ہے ـ