فرمایا کہ آج کل اکثر لوگ محل بے محل جوش میں کہہ دیتے ہیں کہ دین کے لئے جانیں دے دینی چاہئیں اس سے ہم بھی متفق ہیں بشرط یہ کہ قاعدہ سے ہو مراد قاعدہ سے شرعی قاعدہ ہے قاعدہ سے جان دینے میں ارمان نہیں ہوتا یہ تو اطمینان ہوتا ہے کہ محل میں جان صرف ہوئی اور بے قاعدہ اور بے اصول کس طرح دے دی جائے اس کے دینے کے لئے بھی تو شریعت مقدسہ نے اصول بیان کئے ہیں اور جب ہم کو معمولی معمولی باتوں میں احکام کا مکلف بنایا ہے تو اتنی بڑی چیز جان دینے کے باب میں کیسے آزاد چھوڑ دیا جاتا ۔
