ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ تحریک خلافت میں جو لوگ شریک تھے سب بدنیت نہ تھے بلکہ میں تو یہ بھی کہتا ہوں کہ جو صلحا شریک تھے انکی نیت اچھی ہی تھی مگر طریق کا غلط تھا اور ایک کمی یہ تھی کہ جوش سے کام لیا گیا ـ حالانکہ کام وہی مفید ہوتا ہے جو ہوش سے کیا جائے شریعت میں تو دشمنی تک کے بھی حدود میں اسلام کی ایک بہت بڑی خوبی یہ ہی ہے جو دوسرے ادیان والے نہیں دکھلا سکتے کہ وہ دشمنوں کی بھی رعایت کرتا ہے نیز ہم جس طرح مخالفین کے دشمن ہیں اپنے دوست بھی تو ہیں اس غلو میں اپنی بھی مضرت ہے سو اس حالت میں کچھ نہیں مگر اپنی تو خیر خواہی کرنا چاہئے اور صاحب بے ڈھنگے پن سے جان نہیں دیجاتی یہ تو اطمنان ہو کہ جسکے لئے جان دے رہے ہیں وہ بھی راضی ہیں اور یہ جان دینا انکے احکام اور مرضی کے خلاف نہیں ہے ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ جی ہاں آجکل آئینی جنگ کے معنی یہ ہیں کہ خدع فریب جھوٹ اور آجکل کے کفار اس فن کے امام ہیں اس کو کوئی ان سے سیکھ لے بعض لوگ مجھ سے پوچھا کرتے ہیں کہ جو کہتے ہو کہ انگریزوں سے معاہدہ ہے سو وہ معاہدہ کب ہوا ہے میں اسکا خاص جواب دیا کرتا تھا مگر پھر ایک صاحب نے مجھ سے بیان کیا اور وہ تو تحریر بھی چھپی ہوئی دکھلائی وہ معاہدہ شاہ عالم سے ہوا ہے انہوں نے خوشی سے بطور ٹھیکہ کے ملک انگریزوں کے سپرد کیا ہے اور میں پہلے یہ جواب دیا کرتا تھا کہ معاہدہ کبھی قالا ہوتا ہے اور کبھی حالا اور حالا معاہدہ ہے کہ وہ ہم سے مامون اور ہم ان سے مامون ـ
