ارشاد فرمایا کہ بعض فقہائے متاخرین نے جو شوال کے چھ روزوں کے بارے میں یہ جزئیہ لکھا ہے کہ اگر ان ایام میں قضائے رمضان یا کفارہ یا نزر کا روزہ رکھ لے تو اس کے مضمون میں شش عید کی فضیلت بھی حاصل ہو جائے گی ـ سو یہ خلاف تحقیق ہے اور اس مسئلہ کی اصل صاحب مذہب سے کہیں منقول نہیں ـ محض متاخرین نے اس کا قیاس تحیہ الوضوء اور تحیۃ المسجد پر کیا ہے یعنی اگر وضو کر کے فرض پڑھ لے یا دخول مسجد کے بعد فرض پڑھ لے تو تحیۃ المسجد بھی ادا ہو گیا مگر یہ قیاس عند التامل الصادق ( پوری طرح غور کرنے کے بعد ) ٹھیک نہیں کیونکہ تحیتہ الوضوء اور تحیتہ المسجد کی مشروعیتہ میں حکمت و علت ہے ـ بخلاف صیام ایام مذکورہ کے کیونکہ یہاں خود فضیلت ان ایام کے صوم کی الگ مقصود ہے اور فرضیت اور وجوب قضائے رمضان و نذر کفارہ جدا مقصود ہے پس یہ قیاس مع الفارق ہے چناچہ حدیث میں جو وارد ہے کہ رمضان کے بعد ان چھ روزوں کے رکھنے سے ( ایسا ہوگیا ) گویا تمام سال روزے رکھے تو حدیث ہی میں اس کی وجہ بھی ارشاد ہوئی ہے کہ حق تعالی نے فرمایا کہ من جاء بالحسنۃ فلہ عشر امثالھا لہذا رمضان تو برابر دس ماہ کے ہو گیا اور یہ چھ دن برابر ساٹھ دن دو ماہ کے ہو گئے ـ سو جب چھ روزہ رمضان مثلا قضا ہو گئے اور ان کو شوال میں ادا کیا تو رمضان کے روزے تو اب پورے ہوئے دس مہینے کا ثواب اب ملا تو یہ ہی چھ روزے دو ماہ بقیہ کے قائم مقام کیسے ہو جائیں گے ـ
