(ملفوظ 9)شیخ کامل کی پہچان :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل اس کی بڑی ضرورت ہے کہ جس سے دین کا تعلق پیدا کیا جائے اور پنے کو اس کے سپرد کیا جائے اس کے اعمال ظاہرہ پر بھی نظر کرلی جائے اس زمانہ میں عجیب حالت ہے لوگوں کی کہ ہرشخص کے معقد ہوجاتے ہیں ۔ بہت سے سیاح پھرتے ہیں اور لوگوں کو دھوکہ دیتے اور پھانستے ہیں اور کہتے ہیں کہ اہل وطن ہونے کی ضرورت ہے نماز روزہ سے کیا غرض خدا کی یاد کا قلب میں ہونا کافی ہے یہ بالکل گمراہی ہے اس دھوکہ میں نہ آنا اسی کو مولانا فرماتے ہیں
گرانا رے میخری خنداں بخرد تادہد خندہ اش او خبر
(اگر انار خرید و تو کھلا خرید و تاکہ اس کا کھلا ہونا اس کے اندر کی حالت پر بھی مطلع کردے )
دیکھئے کیسا عجیب طریقہ تعلم فرمایا ارو کیوں نہ فرماتے بڑے عارف ہیں محقق ہیں فرماتے ہیں کہ انار خرید و تو بندمت خرید وکھلا ہو ا خرید یعنی نری باطنی صلاح کو کافی نہ سمجھو صلاح ظاہری بھی دیکھو نامبارک خندہ آں لالہ بود کہ زخندہ و سواد دل نمود
(گل لالہ کا کھلنا نا مبارک تھا کہ اس کے کھلنے ہی سے اس کے دل کی سیاسی ظاہر ہوئی )
ہرشخص اللہ والا نہیں ہے اس روپ میں ہزاروں راہ زن اور ڈاکو پھرتے ہیں جنکا پیشہ ہی یہ ہے بالخصوص اس زمانہ میں تو ایسے راہ زنوں کی کوئی کمی ہی نہیں اپنے دین کی حفاظت ضروری ہے۔
2 /ربیع الاول 1351 ہجری مجلس خاص بوقت صبح یوم جمعہ