ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ طبیب کا نسخہ بدلنا اور وجہ سے ہوتا ہے ایک تو اس وجہ سے کہ اس نسخہ میں کوئی کوتاہی ہوگئی تھی اور وہ پہلی رائے ناقص تھی دوسری وجہ یہ کہ مریض کی حالت بدل گئی ان دونوں میں فرق ہے مگر اس کو بھی طبیب ہی سمجھ سکتا ہے مریض نہیں سمجھ سکتا اس کے لئے تو اسی ہی میں خیر ہے کہ اپنے کو اس کے سپرد کر کے جو وہ کہے اس پر کاربند رہے ـ اسی طرح اگر شیخ کسی تدبیر کو بدلے تو طالب کو شبہ کرنیکا حق نہیں ـ
