( ملفوظ 620) شیخ کو ذرا برابر بھی مکدر نہ کرنا چاہئے

ایک صاحب کی غلطی پر مؤاخذہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ جس شخص سے اصلاح باطن کا تعلق ہو اس کو رائی برابر بھی مکدر کرنا ایسا ہے جیسے بڑا پہاڑ بیچ میں آ گیا اور حجاب ہو جاتا ہے اور فیض بند ہو جاتا ہے اور یہ بات وجدانی ہے اس طریق میں کدورت اور نفع دونوں جمع نہیں ہو سکتے مگر کدورت اور نفع دونوں جمع نہیں ہو سکتے مگر کدورت اسی سے ہوتی ہے جس سے توقع ہوتی ہے ۔
ایک روہیل کھنڈ کے مولوی صاحب نے مجھ کو ہمیشہ گالیاں دیں مگر ذرہ برابر بھی کبھی اثر نہیں ہوا نہ کوئی شکایت ہوئی شکایت بھی دوستوں ہی سے ہوا کرتی ہے دشمن کی کیا شکایت جو دوستی کا دعوی کرتے ہیں ان سے اذیت کی برداشت نہیں اور اس اذیت کا سبب کم فہمی نہیں ہوتی بلکہ بے فکری ہوتی ہے فکر سے کام لے تو کبھی دوسرے کو تکلیف نہ پہنچے حتی کہ اگر ایسے شخص سے کبھی کوئی نا مناسب حرکت بھی ہو جائے وہ بھی بہت خفیف اور کبھی اتفاقا ہو گی اور چونکہ صاحب معاملہ کو معلوم ہو گا کہ یہ شخص فکر سے کام لیتا ہے مگر باوجود قصد اور فکر کے ایسا ہو گیا تو اس پر بھی کوئی اثر نہ ہو گا ۔