( ملقب بہ شیون اہل الحق ) ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ فلاں مدرسہ کی سرپرستی میرے سر زبردستی تھوپی گئی کرتے کراتے سب کچھ خود ہیں میرا تو محض نام ہی نام ہے کیا فائدہ ایسی سرپرستی سے مجھے خدمت سے انکار نہیں علماء کو میں اپنا بھائی سمجھتا ہوں اور طلبہ کو مثل فرزند کے سمجھتا ہوں مگر ضرورت اس کی ہے کہ خدمت طریقہ کے ساتھ لی جائے یہ تومحض بے ڈھنگا پن ہے کہ نہ اصول ہیں نہ قواعد مجھے آج تک یہی معلوم نہیں کہ میرے فرائض ہیں کیا اور یہ فساد کرنے والے اورمدرسہ سے مخالف کرنیوالے تو خود اغراض میں مبتلا ہیں الاماشاء اللہ شکایت توخود مجھ کو بھی کارکنان مدرسہ سے ہے مگر شکایت کا یہ طریقہ نہیں ، جو ان مخالف لوگوں نے اختیار کر رکھا ہے انہوں نے تو مدرسہ ہی کو بیخ بنیاد سے اکھاڑ دینے کا انتظام کردیا مجھ کو مدرسہ والوں کے ساتھ تو صرف طریقہ کا سے اختلاف ہے اور مخالفین کے ساتھ ان باتوں سے اختلاف ہے جو بدون تحقیق کا رکنان مدرسہ کے سرتھوپی گئیں آخردین بھی کوئی چیز ہے دشمنی میں بھی حدود سے تجاوز ہونا چاہئے دوسرے یہ کہ اگران کو دشمنی بھی ہے تو کارکنان مدرسہ سے نہ مدرسہ سے تو ایسی حرکت کرنا یا وہ طریقہ اختیا رکرنا جس سے مدرسہ کو نقصان پہنچے یہ کس درجہ عقل کی بات ہے اور خاص اغراض پورا کرنے کی وجہ سے چالاکیاں اور پالیسی اختیار کرنا کون سی کمال کی بات ہے ایسی پالیسی تو ہم بھی جانتے ہیں مگر استعمال سے نفرت ہے میں نے اس کی مثال میں ایک صاحب سے کہا تھا کہ گوہ کھانا کون نہیں جانتا سب جانتے ہیں ہاتھ میں لے کر منہ میں رکھ کرنگل جاوئے مگر دیکھنا یہ ہے کہ اس کا کھانا کیسا ہے کوئی شریف آدمی سلیم الطبع کبھی ایسی باتوں کو گوارہ نہیں کرسکتا اور نہ اختیار کرسکتا ہے طالب علموں میں جیسے غربت مسکنت انکساروغیرہ کی شان ہونا اوروں سے زیادہ احسن ہے ویسی ہی ان میں اس کے مقابل دوسری شان جیسے غرض پرستی پالیسی وغیرہ کا ہونا اوروں سے زیادہ اقبح ہے اللہ ان رذائل سے بچائے میں تو اس کی ایک مثال بیان کیا کرتا ہوں کہ خشک روٹی اگر بس بھی جائے آدمی کھاسکتا ہے لیکن زردہ پلاؤ بریانی قورمہ متنجن اگر خواب ہوگا تو گھر والوں کو توکیا پڑوسیوں تک کو محلہ میں نہ ٹھہرنے دے گا اس میں اس قدر بدبو تعفن ہوگا اسی طرح عوام کے عیوب سے علماء کے عیوب نہایت اقبح واشنع ہیں مگر افسوس ہے کہ آج کل ہم اہل علم نے دنیا کے جھگڑوں قصوں میں پڑکر درس تدریس سب ہی کچھ برباد کیا ورنہ اگر یہ اطاعت واخلاص اختیار کرتے تو بدون ان وسائط کے اللہ تعالیٰ ان کو ہرطرح کی کامیابی عطا فرماتا موسی ٰ علیہ السلام کے پاس کون سا سامان تھا حتی کہ جب ان کو تبلیغ کا حکم دیا گیا تو انہوں نے بے سامانی کو دیکھ کر یہ دعاء کی تھی ۔ ( رب انی قتلت منھم نفسا فاخاف ان یقتلون ) اے میرے رب میں ان میں سے ایک آدمی کا خون کردیا تھا ، سو مجھ کو اندیشہ ہے کہ وہ لوگ مجھ کو قتل کردیں ) اور جواب میں بجائے سامان عطا ہونے کے یہ ارشاد ہواتھا یجعل لکما سلطانا فلایصلون الیکما ( اور ہم تم دونوں کو ایک خاص شوکت عطا کرتے ہیں جس سے ان لوگوں کو تم پردستری نہ ہوگی ۔ 12) یہی صفت اللہ والوں کو عطاء فرماتے تھے یعنی ہیبت اور شوکت پس ان کا خداد اور رعب ہوتا ہے اسی کو مولانا رومی رحمتہ اللہ فرماتے ہیں ۔
ہیبت حق ست این از خلق نیست ہیبت ایں مرد صاحب دلق نیست
مجدد صاحب کو جہانگیر بادشاہ نے بلایا تھا اور تخت کے سامنے ایک عارضی کھڑکی لگوائی جس میں داخل ہونے والا بدون سرجکائے داخل نہ ہوسکے اوراس کھڑکی میں سے آپ کو آنے کا حکم ہوا مقصود یہ تھا داخل ہونے کے وقت تخت کے سامنے آپ کا سرجھکے گا آپ نے یہ لطیفہ کیا کہ اس کھڑی میں پہلے پیرداخل کئے تو اس صورت میں بادشاہ کی طرف پیرہوئے اس پربادشاہ پرہم ہوا اور مجدد صاحب کے قتل کا حکم دیا مگر دربار میں ایک مولوی صاحب تھے ولایتی انہوں نے سفارش کی تب قتل کا حکم قید سے مبدل ہوا اور گوالیار کے قلعہ میں قید کئے گئے ان حضرات پر کسی کا اثر نہیں ہوتا سوائے ایک ذات کے اوروہ حق سبحانہ تعالیٰ کی ذات ہے میں نے بڑے بڑے اہل جاہ کو کہتے سنا ہے کہ حضرت مولانا رشید احمد صاحب رحمتہ اللہ کے سامنے بولانہ جاتا تھا اور حالانکہ حضرت کی حالت یہ تھی کہ آواز بھی کبھی بلند نہ ہوتی تھی ملا محمود صاحب نہایت سادہ بزرگ تھے ایک مرتبہ سبق میں ایک طالب علم کے گھونسہ مارا وہ ہٹ گیا تو گھونسہ زمین پرلگا اور غصہ بھڑک گیا جوتہ پھینک کرمارا وہ اس کی زد سے بھی بچ گیا اور بھی غصہ بھڑک گیا بڑا شوروغل مچا میں ان کی درسگاہ سے ایک طرف کو جارہا تھا اس طرف حضرت مولانا قاسم صاحب رحمتہ اللہ تشریف رکھتے تھے مجھ کو بلایا اور واقعہ پوچھا باوجود یہ کہ نہایت سفقت فرماتے تھے مگر جواب دینے کی اہمت نہ ہوئی بات نہ کی جاتی تھی حتی گھونسہ کا لغت بھول گیا یہ ہیبت ان حضرات کو خدا داد عطاء ہوتی ہے ۔ انتھت رسالۃ شیون اھل الحق ۔
