(ملفوظ 112)شیعوں کےخواص ہروقت تلبیس کی تدابیر سوچتے ہیں :

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ یہ شیعوں کے عوام الناس گمراہی میں درجہ کے نہیں جس درجہ کے ان کے خواص ہیں ہروقت تلبیس کی تدابیر سوچتے رہتے ہیں ایک واقعہ میں لکھنؤ کا ایک مجتہد صاحب کے پاس ایک شیعی نواب صاحب ہانپتے کانپتے آئے کہا کہ جناب آج بڑا جرم صادر ہوا اسکا کیا کفارہ ہونا چاہئے وہ جرم یہ ہوا قبلہ کی خاک شفاء کی تسبیح بھولے سے ہاتھ رہ گئی اور بیت الخلاء میں چلی گئی اوراس کا تا گا ٹوٹ کرچند دانے پاخانہ میں گرگئے اب اس گناہ کا کیا کفارہ ہے مجتہد صاحب نے جواب دیا کہ نواب صاحب فکرنہ کیجئے وہ خاک شفاء ہی نہ تھی پاک چیز ناپاک کی طرف جاہی نہیں سکتی تمام مجلس میں اس جواب پربڑی تحسین ہوئی کہ سبحان اللہ کیا نکتہ فرمایا اس مجلس میں ایک سنی بھی تھے انہوں نے کہا کہ حضرت قبلہ آپ کے جواب سے تو آج مذہب کا قطعی فیصلہ ہوجاوے گا یہ آپ کے ہاتھ میں تسبیح ہے میں نے بارہا آپ سے سناہے کہ یہ اصلی خاک شفاء کی ہے سومجھ کو اجازت دیجئے کہ اس کا تا گا توڑ کر پاخانہ کے سامنے لٹکاتا ہوں اگرتسبیح کا کوئی دانہ نہ گرا تو میں شیعی ہوجاؤنگا اور اگر گرگیا تو آگے کچھ کہہ نہیں سکتا تمام مجلس پراس جواب سے حیرت طاری ہوگئی اور مجتہد صاحب سے کچھ بھی جواب نہ بن پڑا ایک دوسرا واقعہ بھی لکھنؤ کا ہے شیعوں کے یہاں خرگوش حرام ہے مولانا اسمعیل شہید صاحب رحمتہ اللہ علیہ لکھنو کے آمد کے زمانہ میں ایک خرگوش کاشکار کرکے لائے وہ ایک گوشہ میں رکھا ہوا تھا اتفاق سے مولانا کے پاس ایک مجتہد صاحب بغرض ملاقات تشریف لائےوہ بیٹھے ہوئے تھے اتنے ایک کتا آیا وہ خرگوش کی طرف چلا مگرسونگھ کرہٹ گیا اس پرمجتہد صاحب کوایک موقع ملا فرماتے ہیں جناب مولانا دیکھئے آپ کے شکار کوکتے نے بھی نہیں کھایا مولانا نے جواب دیا کہ جناب قبلہ مجتہد صاحب یہ کتوں کے کھانے کا نہیں ہے آدمیوں کے کھانے کا ہے ۔ تیسرا واقعہ ایک صاحب نے مجھ سے بیان کیا تھا کہ عامی سنی سے ایک شیعی کی گفتگو ہوئی سنی نے کہا جب فدک پرجھگڑا تھا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ خلافت میں اس کو کیوں نہ لے لیا شیعی نے جواب دیا کہ جو چیز غصب کرلی جاتی ہے پھر ہم لوگ اس کونہیں لیتے ، سنی نے جواب دیا کہ خلافت بھی تو غصب کرلی گئی تھی پھر اس کو کیوں لیا اس جواب پرشیعی دم بخود رہ گیا۔ چوتھا واقعہ ایک مولوی صاحب میرے دوست ہیں کیرانہ کے رہنے والے وطن ہی میں ان سے ایک شیعی نے کہا کہ مولوی صاحب یہ کیا بات ہے کہ آج کل جتنے نئے نئے فرقے نکلتے ہیں تہتر بہتر فرقہ جوبنے ہیں یہ سب سنیوں ہی میں سے بنتے ہیں کبھی آپ نے یہ بھی دیکھا کہ مومنین سے کوئی نیا فرقہ بناہومولوی صاحب نہایت ذہین اور ذکی شخص ہیں بڑی ظرافت سے کہا کہ آپ نے بالکل سچ کہا مگر اس کی وجہ آپ کو معلوم نہیں میں بتلاتاہوں وہ وجہ یہ ہے کہ یہ سب کو معلوم ہےکہ شیطان ہرشخص کو گمراہی میں اعلی درجہ پر پہنچانے کی کوشش میں لگارہتا ہے توسنی چونکہ حق پرہیں اس لئے وہ ہروقت ان کے پیچھے پڑا رہتا ہے اور نئی نئی گمراہیاں سکھلاتا رہتا ہے بخلاف تم لوگوں کے کہ تم کو گمراہی کے اعلی درجہ پر پہنچا چکا ہے اب وہاں سے کس درجہ پرپہنچا دے اس لئے تم سے بیفکر ہےیہ سن کرشیعی صاحب نے سانس نہیں لیا ۔ پانچواں واقعہ ایک خواندہ شیعی اور ایک ناخواندہ خان صاحب کا ہے سفر میں اتفاقا ساتھ ہوگیا شیعی صاحب نے کہا کہ جناب خان صاحب جن لوگوں نے امام حسین کوشہید کیا معلوم نہیں ہم تھے یاتم تھے (یہ چھیڑتھی مطلب یہ کہ شیعی تو محب حسین ہیں وہ توہو نہیں سکتے بس سنی ہی ہونگے حالانکہ یہ تاریخ کے خلاف ہے مگر بیچارے باخواندہ پٹھان تاریخ کیاجانے شیعی صاحب سمجھتے تھے کہ یہ بیچارہ اس کا جواب کیا دے گا ) خان صاحب بولے جناب واقعات تو واقف لوگ جانتے ہوں گے مگر ایک بات موٹی تو ہم بھی سمجھ سکتے ہیں وہ یہ کہ ہم نے سناہے کہ جو اصحاب کو برا کہے اس نے اللہ ورسول کو برا کہا اور جواللہ ورسول کو برا کہے وہ کافر ہے اور حضرت امام حسین کو قتل کرنا مسلمان کا کا م توہے نہیں کافر ہی ایسا کام کرسکتا ہے اب دیکھ لیجئے ان کے شہید کرنے والے کون تھے ، شیعی صاحب باوجود خواندہ ہونے کےدم بخود ہی تورہ گئے ۔