ایک صاحب نے سوال کیا کہ عورتیں جوکھانا پکاتی ہیں کیا یہ شرعا ان کے ذمہ ہے فرمایا کہ میں تو ذمہ نہیں سمجھتا ۔ مگر ایک مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ قضاء تو نہیں مگر دیانتہ ان کے ذمہ ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ دیانتہ بھی ان کے ذمہ نہیں البتہ جس وقت شوہر حکم دے وہ اطاعت روج کے تحت میں لازم ہوجاویگا اور میں اس آیت سے استدلال کرتا ہوں ومن ایتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجا التسکنوا الیھا وجعل بینکم مودۃ ورحمۃ لتسکنوا سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت جی بہلانے کے واسطے ہے روٹیاں پکانے کے واسطے نہیں ، وہ مولوی صاحب اس کو فی نفسہ واجب فرماتے ہیں میں اس کوفی نفسہ واجب نہیں سمجھتا ایک صاحب نووارد جن کو ایسی مخاطبت کی اجازت نہ تھی مجلس میں حاضر تھے انھوں نے عرض کیا کہ ان کا مستدل کیا ہے ۔ فرمایا کہ کیا یہاں پرفقہی مسائل کی تحقیق کے لئے آپ تشریف کائے ہیں یہ کام تو اور بہت جگہ ہورہا ہے اور یہاں سے اچھا ہورہا ہے یہاں پرجس کام کے لئے آئے ہو اس کے متعلق پوچھو بتاؤنگا میں نے تو یہ نسبت دوسری جگہوں کے بڑے کاموں کے ایک چھوٹا سا کام اپنے ذمہ لے رکھا ہے کہ قاعدہ بغدادی پڑھاتا ہوں فقہ کی تحقیق کے لئے بڑے بڑے حضرات بڑی بڑی جگہ میں موجود ہیں خواہ مخواہ غیر ضروری سوال کرکے مجھ کو پریشان کیا مجھے ایسی باتوں سے بڑی کلفت ہوتی ہے ۔ اب دنیا بھر کے استدلالات بھی میں ہی بیان کروں کہ ان کا یہ مستدل ہے ۔ ایسی باتوں سے دل تنگ ہوتا ہے البتہ اگر کوئی مصلح خود اپنی رائے سے ایسے گفتگو کرے تو یہ اس کا تبرع ہے جیسے حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے مکہ معظمہ میں ایک غیرمقلد عالم سے گفتگو فرمائی تھی ۔ گفتگو اس پر تھی کہ وہ غیر مقلد صاحب یہ کہتے تھے کہ مدینہ شریف کا سفر قصدا اس نیت سے کرنا کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے مزار مبارک کی زیارت کروں گا جائز نہیں حضرت انکی تمام باتوں کا نہایت مدلل جواب فرماتے رہے ۔ اخیر میں وہ غیرمقلد صاحب کہنے لگے کہ خیر مسجد نبوی کی زیارت کا قصد کرے ورضہ مبارک کی زیارت کا قصد نہ کرے حضرت نے فرمایا کہ آپ کی عقل بھی عجیب ہے کہ جس کی فضیلت بالذات ہے اس کا تو قصد نہ کرے اورجس کی فضیلت بالعرض ہے کیونکہ مسجد نبوی کی فضیلت تو آپ کی ذات مقدس ہی کی بدولت ہوئی ہے اس کا قصد کرے انھوں نے کہا کہ فرض وواجب توہے ہی نہیں جس کا اس قدر اہتمام کیا جائے حضرت نے فرمایا کہ بے شک فتوے سے تو واجب نہیں مگر طریق عشق سے توواجب ہے اخیر میں حضرت نے فرمایا کہ اللہ تعالٰٰ آپکو ہدایت فرما دے کہنے لگے مجھ کو اسکی ہدایت نہ کرے مگر اتفاقی بات کہ اسی روز بیت الحرام میں حکومت کی طرف سے غیرمقلدوں کی پکڑ دھکڑ شروع ہوگئی ۔ یہ حضرت بھی پکڑے گئے ان سے بھی توبہ کرائی گئی اور یہ کہا گیا کہ توبہ اس پر معلق ہے کہ مدینہ کا سفر کریں تو انھوں نے بھی اونٹ کرایہ کیا اور مدینہ شریف پہنچ گئے ۔
