ایک نو وارد صاحب نے حاضر ہو کر کسی معاملہ میں حضرت والا سے سفارش کی درخواست کی ـ حضرت والا نے فرمایا کہ سفارش کے متعلق ایک تمہید سنو ـ حضر علیہ السلام کے پاس جانے کا موسیٰ علیہ السلام کو حق تعالٰی کا حکم ہوا کہ جا کر علوم سیکھو ـ آپ حضر علیہ السلام کے پاس تشریف لے گئے انہوں نے پوچھا کون فرمایا موسیٰ کون کون موسیٰ فرمایا بنی اسرائیل کا موسیٰ ہوچھا کیسے آئے فرمایا ھل اتبعک علٰی ان تعلمن مما علمت عشدا ۔ یعنی میں علوم سیکھنے کیلئے تمھارے ساتھ رہنا چاہتا ہوں اتنے بڑے نبی اولعزم اور حضر سے فرماتے ہیں “” ھل اتبعک “” میں تمھارے ساتھ رہوں مجھ کو کچھ علوم سکھا دیجئے ـ یقینی بات ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کے علوم کے سامنے خضر کے علوم کیا چیز تھے مگر خیر جو کچھ بھی تھے ان کے سیکھنے کی درخواست کی خیر یہ تو قصہ ہے مگر اس میں دیکھنا یہ ہے کہ اور کتنی عجیب بات ہے کہ اس گفتگو میں یہ نہیں فرمایا کہ میں خدا کا بھیجا ہوا ہوں فرماتے تو اعلٰی درجہ کی سفارش ہوتی سو اس سے یہ معلوم ہو گیا کہ آجکل جو سفارش لکھا کر لے جاتے ہیں یا جا کر کسی کا نام لے دیتے ہیں ـ بعض اوقات اس سے دوسرے پر بار ہوتا ہے ـ حق یہ ہے کہ حضرات انبیاء علیہم السلام ہی حقیقی علوم کے حامل ہیں دیکھئے یہ ظاہر فرمایا کہ میں حق تعالٰی کے ارشاد سے آیا ہوں ـ کیونکہ یہ سن کر حق تعالٰی کا ارشاد ہے پھر چوں چرا نہ کریں گے ـ آزادی نہ رہے گی چناچہ خضر علیہ السلام نے نہایت آزادی سے شرطیں لگا دیں اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بدون اذن کے کسی کی صحبت سے استفادہ حاصل نہیں کرنا چاہئے ـ نیز دوسرے کے پاس جا کر یہ نہ کہے کہ میں فلاں شخص کا بھیجا ہوا ہوں ـ
