ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت آج کل سائل سوال کرتے پھرتے ہیں بظاہر نہایت تندرست ہٹے کٹے ہوتے ہیں ان کو کچھ دینا جائز ہے یا نہیں فرمایا نہیں آج کل تو لوگوں نے مانگنے کا پیشہ بنا لیا ہے اس پر استطر ادا ایک سائل کا قصہ فرمایا کہ مجھ سے ایک صاحب نے برادیت محسن الملک کے بیان کیا کہ سید احمد خان اپنی کوٹھی میں بیٹھے تھے اس میں شیشے کے کیواڑ تھے ایک شخص آئینوں میں سے نظر آیا نہایت بوسیدہ اور میلے کپڑے پہنے ہوئے کوٹھی سے باہر آکر بیٹھا یہ شیشہ کے کیواڑوں میں سے دیکھ رہے تھے محسن الملک بھی سید احمد خان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے سرسید نے ان سے کہا کہ دیکھو یہ ایک مکار سائل ہے اور اب اپنا لباس تصنع کا بدلے گا اور پھر آکر سوال کریگا مگر میں اس کو ایک کوڑی نہ دوں گا ایسا ہی ہوا اس نے اپنی گٹھڑی میں سے چوغہ عمامہ تسبیح نکالی اور بن ٹھن کر کوٹھی پر آیا اور دستک دی کیواڑ کھول دیئے گئے اس نے اندر داخل ہو کر سلام کیا
ایک کرسی پر بیٹھ کر کہا کہ مجھ کو فلاں ضرورت ہے اعانت چاہتا ہوں سر سید اسی طرح بے التفاتی کے ساتھ لیٹے رہے دوران گفتگو میں اس کے منہ سے یہ بھی نکلا کہ میں شاہ غلام علی صاحب کا دیکھنے والا ہوں اس کے یہ کہنا تھا کہ سید احمد خان نہایت اضطراب کے ساتھ اتھ کر سیدھے بیٹھ گئے وہ کچھ حالات شاہ صاحب کے بیان کرتا رہا اور سر سید بہت توجہ سے سنتے رہے پھر اس کے لئے نہایت ادب و احترام کے ساتھ کھانا منگایا اور کھانے کے بعد پچاس روپیہ پیش کئے جب وہ چلا گیا تو محسن الملک نے پوچھا کہ یہ کیا خبط تھا خود ہی تو کہہ تھے کہ یہ شخص مکار سائل ہے ، پیشہ ور ہے اس کو ایک کوڑی نہ دوں گا یا ایسے معتقد ہوئے جیسے اس نے جادو کر دیا ہو آخر آپ کو یہ سوجھی کیا تھی سید احمد خان نے کہا کہ تم کو خبر نہیں اس شخص نے کس کا نام لیا اگر یہ اس وقت جان طلب کرتا تو میں عزر نہ کرتا حضرت شاہ صاحب کی اس قدر عظمت تھی نام سن کر از خود درفتگی کی کیفیت طاری ہو گئی
