ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ شہادت قلب معتبرتو ہے مگر ہرشخص کے قلب کی شہادت معتبرنہیں بلکہ اہل دل کی شہادت معتبرہے اور اہل دل ہونے کا معیار یہ ہے کہ اس کی طرف علماء صلحاء اتقیاء متوجہ ہوں وہ شخص کامل ہے درویش ہے اورجس کی طرف اہل دنیا واہل جاہ وثروت یا فساق فجار متوجہ ہوں وہ نہ کامل ہے نہ درویش ہے اور علماء اور صلحاء سے بھی مراد اہل حق ہیں ورنہ وہ یوں توبہت لوگ اہل علم کہلاتے ہیں ان سب ہی کو صلحاء ہونے کا دعویٰ ہے غرض وہ لوگ دیندارہوں دکاندار نہ ہوں ایسوں کا متوجہ ہونا معیار ہے وہ صورت دیکھ کر ادراک کرلیتے ہیں بقول مولانا
نور حق ظاہر بود اندر ولی نیک بیں باشی اگر اہل ولی
مولانا ابوالحسن صاحب نے گلزار ابراہیم میں اس کا خوب ترجمہ کیا ہے
مردحقانی کی پیشانی کا نور کب چھپا رہتا ہے پیش ذی شعور
مگرآج کل دکانداروں اور مکاروں سے زمانہ پرہے اس زمانہ میں اس راہ کے اندر اس قدر راہ زن پیدا ہوگئے ہیں کہ جس کی حداورشمار نہیں اورزیادہ ترجہلاء کو ان کی طرف توجہ ہوتی ہے ان جہلاء کے یہاں بڑا زبردست معیار کامل ہونے کا یہ ہے کہ جس قدر جوشریعت کے خلاف ہو اسی قدر وہ بڑا بزرگ اور درویش ہے ۔
اناللہ واناالیہ راجعون
7/ربیع الاول 1351ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم چہارم شنبہ
