( ملفوظ 184) صرف بیعت ہو جانا کافی نہیں

فرمایا کہ ایک صاحب کا خط آیا ہے لکھا ہے کہ قلب میں وساوس آتے ہیں اس کے واسطے کوئی ورد بتلا دو یہ صاحب ایک بہت بڑے شیخ سے مرید ہیں لیکن آج تک یہ خبر نہیں کہ ورد سے بھی وسوسوں کا علاج ہوتا ہے اس لئے میں کہتا ہوں کہ فقط بیعت سے کچھ کام نہیں چلتا تعلیم و تنظیم کی ضرورت ہے اس پر مجھ کو بدنام کیا جاتا ہے کہ سخت ہے بس یہ سختی ہے کہ میں ناواقفوں کو واقف بناتا ہوں کیا یہ بھی جرم ہے ایک قصبہ ہے تیتروں وہاں سے بہت سی عورتیں بیعت ہونے آئیں ایک چھکڑا کیا بھرا ہوا تھا اس میں ایک جھگڑا بھرا ہوا تھا میں نے بیعت کرنے سے اس بناء پر انکار کر دیا کہ تم اپنے اپنے خاوندوں سے پوچھ کر نہیں آئی ہو میں بیعت نہ کروں گا میں نے بعد میں سنا کہ ان عورتوں نے کہا کہ یہ مولوی اچھا نہیں گنگوہ والا مولوی اچھا تھا ترت یعنی فورا مرید کرلے تھا میں نے کہا کہ بالکل سچی بات ہے دونوں جز صحیح ہیں حضرت مولانا گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ کا اچھا ہونا اور میرا برا ہونا مگر بلانے کون گیا تھا تم یہاں پر آو اور آکر مرید ہو سب خفا ہو کر چلی گئیں ـ