( ملفوظ 219) صرف تصانیف اور وعظ سے معتقد نہ ہونا چاہیئے

فرمایا کہ ایک صاحب کا خط آیا لکھا ہے کہ فلاں شخص سے آپکی باتیں سنکر دل کو بیحد اطمنان ہوتا ہے جواب یہ دیا گیا سنی سنائی روایت کا کوئی اعتبار نہیں اسپر یہ بھی فرمایا کہ تصانیف دیکھ کر یا وعظ سنکر یا زبانی تعریف سن کر اکثر دھوکہ ہو جاتا ہے اس سے ایک خاص نقشہ ذہن میں ایسا جمالیتے ہیں جیسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نقشہ رافضیوں کے ذہن میں ہے لیکن اگر لوگ انکی اصلی حقیقت کو دیکھ لیں تو سب سے پہلے حضرت علی کے یہ شیعی ہی دشمن ہوں یہ دیکھ کر یوں کہیں کہ یہ کیسے حضرت علی ہیں یہ تو حضرت ابوبکر ہیں یہ عثمان ہیں ایسے کسی جاہل نے ایک مسجد کی محراب میں لکھا تھا ـ
چراغ و مسجد و محراب منبر ابوبکر و عمر عثمان و حیدر
وہ جاہل چھری لیکر حضرت علی کے نام پر چڑھ گیا کہ ہم تو تمہاری وجہ سے لڑتے مرتے پھرتے ہیں اور تم کو جب دیکھتے ہیں ان ہی کے پاس بیٹھا دیکھتے ہیں ان سے جدا ہی نہیں ہوتے یہ کہہ کر حضرت علی کا نام چھری سے چھیل ڈالا ـ جہل ایسی چیز ہے غرض خیالات کا کیا اعتبار حقائق کو دیکھنا چاہیئے ـ