ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت اگر ایک شخص سیاست کا ماہر ہے مگر ہے کافر اس میں اس کی اقتداء کر لی جائے کیا حرج ہے ـ فرمایا کہ اس کی بالکل ایسی مثال ہے کہ اگر کافر نماز خوب جانتا ہو اور مسلمان نہ جانتا ہو تو کیا اس کافر کی اقتداء جائز ہے ـ شبہ کا منشا یہ ہے کہ سیاست کو لوگ دین نہیں سمجھتے ـ خود یہی سخت غلطی اور جہل اعظم ہے ـ سیاست بھی تو دین ہی ہے ـ اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ اسلام نے سیاست کی تعلیم نہیں کی ـ سو یہ کتنی بڑی تحریف ہے ـ پھر دین میں کافر کی اقتداء کرنا کیا معنی نیز کیا اس میں اسلام اور مسلمانوں کی اہانت نہیں ہے اور کیا کوئی شخص کہیں یہ بات دکھلا سکتا ہے کہ اسطرح سے کہ اسلام اور مسلمانوں کی اہانت کرانا اور ان کو ذلیل کرانا جائز ہے ـ اور کیا مسلمانوں میں ایسا کوئی نہیں کہ وہ سیاست جانتا ہو ـ البتہ اس طریق سے ان کے ساتھ مل کر کام کر سکتے ہیں کہ کافر تابع ہوں اور مسلمان متبوع اور یہاں بالکل عکس ہے کہ مسلمان تابع اور کافر متبوع اور مجھ کو عوام کی اور لیڈروں کی شکایت نہیں ـ وہ جہل میں مبتلا ہیں ہی شکایت تو علماء کی ہے کہ وہ غلطی میں پھنس گئے ـ حق تعالٰی ہدایت فرمائیں اور جہل سے محفوظ رکھے مجھ کو ایسی باتیں سن کر بے حد قلق اور صدمہ ہوتا ہے جب لکھے پڑھوں کی نسبت سنتا ہوں کہ وہ ایسی خرافات کے حامی اور دلدادہ ہیں ـ انا للہ و انا الیہ راجعون ۔ عجیب بات ہے کہ خسران کا کھلی آنکھوں مشاہدہ کر رہے ہیں مگر بات کی پچ ہو گئی اس سے نہیں ہٹتے اور ایسے ایسے لچر استدلالات اور تاویلات کرتے ہیں جو اہل علم کی شان کے بالکل خلاف ہے ـ
