ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ ایسی خشکی بھی نہیں چاہئے کہ جس سے سوء ادب لازم آئے جیسا کہ ایک نجدی کا واقعہ ہے کسی مجوز توسل سے کہا کہ تم رسول اللہ ﷺ کا واسطہ دیتے ہو اس کا کوئی بھی اثر نہیں اور اس کے بعد یہ کیا کہ اونٹ بیٹھا تھا اس سے خطاب کیا کہ میں تجھ کو رسول اللہ ﷺ کا واسطہ دیتا ہوں تو کھڑا ہوجا وہ نہیں کھڑا ہو ا پھر ایک ڈنڈا مارا کھڑا ہوگیا کہنے لگا یہ ڈنڈا موثر ہے جناب رسول اللہ کے توسل سے دیکھیے کہ کیسا برا عنوان ہے اس مجوز نے جواب میں یہ کیا کہ ایک بیٹھے ہوئے اونٹ سے کہا کہ میں تجھ کوخدا تعالی کا واسطہ دیتاہوں کھڑاہوجا وہ نہیں کھڑا ہو ا پھر ایک ڈنڈا مارا توکھڑا ہوگیا اورکہا کہ کیا ڈنڈا اللہ تعالی کے واسطہ سے بھی زیادہ موثر ہے افراط وتفریط دونوں ممنوع ہیں یہ باتیں جہل کی بدولت ہوتی ہیں جہل بہت ہی بری چیز ہے یہ کہیں سے کہیں پہنچا دیتا ہے کانپور کا واقعہ ہےکہ میرے پاس دو شخص آئے ایک مولوی صاحب اور ایک عامی باہمی جھگڑا یہ تھا کہ مولوی صاحب تو یہ کہتے تھے کہ حضرت غوث پاک رحمتہ اللہ علیہ شاہ عند القادر جلانی کو قطعی جنتی نہیں سمجھنا چاہئے اور وہ جاہل یہ کہتا تھا کہ جب وہ جنتی نہیں تو اور کون جنتی ہوگا میں نے مولوی صاحب سے کہا کہ عام لوگوں سے ایسے واقعات میں گفتگو کرنا ہی مناسب نہیں یہ لوگ خالی الذہن ہوتے ہیں ان کا سمجھانا مشکل ہے بخلاف اہل علم کے کہ ان کے ذہن میں مبادی ہوتے ہیں ان کا سمجھا دینا آسان ہے اور میں نے اس عامی شخص سے کہا کہ واقعہ اگر وہ جنتی نہ ہوں گے تو اور کون ہوگا اس میرے کہنے پرمولوی صاحب کو پریشانی پید ا ہوئی اور سوچنے لگے کہ کیا دلیل بیان ہوگی جنتی ہونے کی پھر میں نے اس شخص سے دریافت کیا کہ پہلے یہ بتلاو کہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
بھی جنتی ہیں یا نہیں اس نے کہا ہقیقنا جنتی ہیں میں نے دریافت کیا کہ سیدنا حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کا جنتی ہونا کیسے ثابت ہو ا کہا کہ حضور ﷺ
کے فرمانے سے پھر میں نے دریافت کیا کہ حضرت غوث پاک رحمتہ اللہ علہ کا جنتی ہونا کیسے ثابت ہوا کہا کہ اولیا ء امت کی شہادت سے میں نے دریافت کیا کہ حضورﷺ کے اور اولیا ء کے ارشاد میں کچھ فرق سمجھتے ہو یا نہیں کہ زمین آسمان کا فرق ہے میں نے دریافت کیاکہ جب حضورﷺ کے اولیاء کے
دونوں کے ارشاد میں فرق سمجھتے ہو تو ان کے اثر میں بھی فرق سمجھتے ہو کہا کہ ضرور میں نے دریافت کیا تو پھر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
کے اور حضرت غوث پاک کے جنتی ہونے میں بھی وہی فرق سمجھتے ہوگے کہا کہ ہاں تب میں نے مولوی صاحب سے کہا کہ لیجئے حضرت جو عقیدہ
آپ کا ہے وہی اس شخص کا ہے فرق دونوں میں صرف عنوان کا ہے یہ جس کو یقین کہتا ہے آپ اس کو غلبہ ظن کہتے ہیں مگر بات ایک ہی ہے اس پر مولوی صاحب بہت خوش ہوئے میں نے کہا کہ مولوی صاحب عوام الناس کو
بلا ضرورت اور بلاوجہ پریشان کرنا اور متوحش بنانا اور بدون دلیل کے ان پر گمانی کرنا اور سوءظن کرنا جائز نہیں دیکھیئے اٖصل مقصد میں دونوں متفق تھے اس لئے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے جنتی ہونے سے
حضرت غوث پاک رحمتہ اللہ علیہ کے جنتی ہونیکا درجہ کم سمجھتا تھا اسی فرق کا نام عدم قطعیت ہے جس پر مولوی صاحب اس سے الجھ رہے تھے حدود کے نہ سمجھنے سے اس قسم کی تشویشات پیدا ہوتی ہیں ۔
