ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ حکماء انسان کو عالم صغیر کہتے ہیں اور صوفیہ عالم کہتے ہیں اور صوفیہ کبیرکہتے ہیں اور اگر کسی کو شبہ ہو کہ حق تعالٰی فرماتے ہیں لخلق السموات والارض اکبر من خلق الناس ، جس میں تصریح ہے انسان کے صغیر ہونے کی اور اس صورت میں حکماء اورصوفیہ کے کلام میں تعارض معلوم ہوتا ہے اور حکماء کی تائید کلام پاک سے ہوتی ہے اس کا جواب یہ ہے کہ تعارض کچھ نہیں اس لئیے کہ انسان میں دو درجہ ہیں ایک کے اعتبار سے حکماء کا قول صحیح ہے یعنی مادہ کے اعتبار سے تو انسان عالم صغیر ہے جیسا لفظ خلق اس پردال ہے اور روح کے اعتبار سے عالم کبیر ہے اور اصل بات یہ ہے کہ صوفیہ کے اکثر دقائق لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتے اس لئے ان کے اقوال کو بظاہر دلائل کے معارض سمجھ بیٹھتے ہیں حالانکہ وہ حقیقت ہوتی ہے مثلا اس وقت میں نے ہی حکماء اور صوفیہ کے قول کو بیان کیا بتلایئے ان میں کیاتعارض ہے ۔
