ارشاد فرمایا کہ یہ جو حدیث شریف میں آیا ہے کہ ایک دفعہ یسین پڑھنے سے دس قرآن پڑھنے کا ثواب ملتا ہے ـ ایسے ہی بعض اور دوستوں کے پڑھنے کا ثواب مثلا ثلث قرآن یا ربع قرآن کا آیا ہے ـ اس پر ایک اشکال وارد ہوتا ہے کہ اگر ایک دفعہ یسین پڑھنے کا ثواب دس قرآن پڑھنے کا ہوا تو دس قرآنوں میں بھی تو یسین ہے ـ تو ان میں بھی یہی حساب ہوگا ـ پھر ان میں بھی چونکہ یسین ہے اس لئے یہ سلسلہ الی غیرالنھایہ چلے گا ـ اور یہ تسلسل محال ہو جائے گا ـ پس یہ تضاعف اجر ( اجر کا بڑھنا ، مستلزم ہے ) تسلسل محال کو اور مستلزم محال کو محال ہے ـ اس کو جواب مشہور یہ ہے کہ تضاعف اجر میں وہ دس قرآن مراد ہیں جن میں سورۃ یسین نہ ہو مگر میرے نزدیک یہ اس لئے بعید ہے کہ یسین جزو قرآن ہے اور انتفائے جزو سے انتفائے کل لازم ہے تو جب ان میں یسین نہ ہوئی تو وہ پورا قرآن کیسے ہوگا بلکہ اسکی قریب توجیہ یہ مناسب ہے کہ تضاعف اجر قراۃ حقیقیہ پر ہے پس جو یسین پڑھی گئی ہو اس کی قراۃ تو حقیقی ہے ـ اور جن دس قرآن کا ثواب اس میں ملا ہے ان کی قرات حکمی ہے اور اس حکمی پر تضاعف موعود نہیں ـ پس تسلسل لازم نہیں آیا ـ
