ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ پہلے سلاطین حضرات اہل اللہ سے مشورہ لیتے تھے کیونکہ ان حضرات کے قلوب نوارنی ہوئے ہیں اس لئے ان کو زیادہ تجربوں کی ضرورت نہیں اسی نورانیت سے سیاست اور ملکی امور میں ان کا مشورہ مفید ہوتا تھا اور اب تو بجائے مشورہ کے کلیہ طے کر لیا گیا ہے کہ یہ لوگ جو کہیں ان کے خلاف کرنا چاہیئے کیونکہ یہ لوگ بیوقوف ہوتے ہیں سمجھتے ہیں کہ ان سے تعلق ہوا اور انکے ہوئے بلکہ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالی سے تعلق پیدا ہوا اور بیکار ہوئے ـ نوذ باللہ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ معلوم بھی ہے کہ بدون تعلق مع اللہ کسی چیز میں اور کسی کام میں بھی خیر و برکت ہوگی لگا لو ایڑھی چوٹی تک کا زور تجربہ کر کے دیکھ لیا اور دیکھ لو کہ اس کے ترک سے تمام راستے فلاح اور بہبود کے چہار طرف سے بند نظر آتے ہیں خیر کا نام و نشان نہیں ایسوں ہی کی بدولت نحوست مسلمانوں کے گلوگیر ہوررہی ہے ـ
