ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ سنت کہتے ہیں عادت غالبہ کو تو نماز حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جو عادت غالب ہے اسکو سنت کہا جاتا ہے ورنہ ہر منقول سنت نہیں اباحتہ ہوگی پھر غلبہ خواہ حقیقیہ ہو یعنی کثرت صدور اور خواہ حکمیہ ہو یعنی اگر موانع نہ ہوتے تو کثرت صدور ہوتا جیسے تراویح کہ حضور نے اس پر دوام نہیں فرمایا مگر خود آپ کے ارشاد سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر افتراض کا اندیشہ نہ ہوتا تو دوام فرماتے ـ
