ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ تعلق مع اللہ میں استغناء کی خاصیت ہوتی ہے ـ جس کو بھی اللہ تعالی یہ دولت عطا فرمادیں یعنی ایمان کی معرفت کی ـ تعلق مع اللہ ہے ـ حضرت محمد یوسف صاحب تھانوی تحصیلدار یا قلعہ دار تھے ـ بھوپال میں اس وقت مولوی عبدالجبار صاحب بھی وزیر تھے ـ انہوں نے حافظ صاحب سے ملنے کی کوشش کی ـ بلایا حافظ صاحب نے تین شرطیں لگائیں کہ اگر یہ منظور ہوں تو آ سکتا ہوں ـ اول تو یہ ہے میری تعظیم نہ کریں ـ دوسرے یہ کہ میں جہاں بیٹھ جاؤں اٹھایا نہ جاوے ـ تیسرے یہ کہ میں جس وقت واپس آنا چاہوں مجھ کو روکا نہ جائے ـ وزیر صاحب نے تینوں شرطیں منظور کر لیں ـ پہنچے وزیر صاحب کے پاس وہ دیکھ کر کھڑے ہو گئے کہا کہ دیکھئے شرط اول کی مخالفت ہو رہی ہے پھر ہی ادنی جگہ میں بیٹھ گئے ـ وزیر صاحب نے کہا کہ حضرت یہاں آجایئے فرمایا کہ شرط ثانی کی مخالفت ہو رہی ہے ـ وزیر صاحب نے کہا کہ میری تمنا ہے کہ حضرت جو عہدہ منظور فرمائیں اسکا انتظام کردوں ـ فرمایا کہ اس وقت میری تنخواہ پچاس روپیہ ہے بیوی منتظم ہوتی تو پچاس روپیہ سے کم میں بھی گزر ہو سکتی ہے مگر اب پچاس روپیہ میں بحمداللہ بخوبی گزر ہو جاتا ہے ـ سو میں یہ چاہتا ہوں کہ اس پچاس میں تو کمی نہ ہو ـ رہا عہدہ سو اس کے متعلق یہ ہے کہ چاہے بھنگیوں کا جمعدار بنا دیجئے ـ ہاں پچاس روپیہ دئے جائیں ـ بس کافی ہے ـ یہ کہہ کر اٹھ کر چلدئے ـ یہ اپنے باپ کے رنگ پر تھے ـ حافظ ضامن صاحب رحتہ اللہ علیہ کی بھی یہی شان تھی ـ بھوپال میں ایک فقیر آیا تھا ـ امراء کو معتقد بناتا پھرتا تھا چونکہ حافظ صاحب بڑے آدمی تھے ـ ان کو بھی مسخر کرنے آیا ـ مسند پر بیٹھے تھے کہ کونے میں کھڑے ہو کر توجہ کی حافظ صاحب کو محسوس ہو گیا اس پر اس فقیر کی طرف متوجہ ہو کر کہا ـ سنبھل کے رکھنا قدم دشت خار میں مجنوں کہ اس نواح میں سودا برہنہ بپا بھی ہے یہ کہنا تھا کہ دہڑام سے زمین پر گر پڑا ـ اور اٹھ کر ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا کہ میں بھی حضور ہی کا شغال رنگین ( رنگا گیدڑ ) ہوں کہا کہ جاؤ ان باتوں میں کیا رکھا ہے ـ اتباع سنت اختیار کرو ـ یہ حافظ صاحب حضرت حاجی صاحب رحنتہ اللہ علیہ سے بیعت تھے اور حضرت ہی سے مجاز تھے ـ
