(ملفوظ 369)تبحرفی العلوم کا فرض ہونا

ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت نے آج کل کے غالب حالات پر نظرکرکے تبحر فی العلوم کو فرض عین فرمایا تھا جس سے مجھ کو تو ضروری تبحر کا بے حد شوق ہوگیا ہے کیا سہولت کے ساتھ کوئی صورت پیدا ہوسکتی ہے کہ وقت بھی زائد صرف نہ اور قابلیت بقدر ضرورت پیدا ہوجائے فرمایا کہ یہ کون مشکل ہے اس کی صورت یہ ہے کہ اگر کوئی شفیق استاد توجہ کرے تو اول ایک کتا ب ادب کی پڑھادے خواہ مفیدالطالبین ہی ہومگر اس طرح کہ اس میں صرف ونحو کے قواعد بھی ساتھ ساتھ جاری کراتا جاوے اور ایسے قواعد کچھ زیادہ نہیں ہیں پندرہ بیس ہوں گے جس سے صرف اتنا معلوم ہوجائے کہ اس کلمہ پرزبر کیون ایا زیرکیوں ہے اس کے بعد قرآن شریف کا ترجمہ اسی طرح ہو کہ اس میں بھی قواعد جاری کرائیں اور ایک کتاب حدیث شریف کی پڑھادی جائے مثلا مشارق الانور کہ بہت بڑی بھی نہیں اور ایک کتا ب فقہ کی جیسے قدوری اس کے بعد یا ساتھ ساتھ دو تین کتابیں صرف ونحو کی بھی پڑھادی جائیں اس سے مناسبت پیدا ہوکر ضروری کتا بوں کا مطالعہ بہت سہل اور آسان ہوجائے گا ۔