ایک خط کے جواب کے سلسلہ میں فرمایا کہ ایک بزرگ کا الہام ہے حق تعالٰی فرماتے ہیں اے بندہ رزق کی وجہ سے کیوں پریشان ہے یہ تو وہ چیز ہے کہ اگر تو یہ بھی دعا کرے کہ اے اللہ مجھ کو رزق نہ دے تب بھی دیں گے نہ کہ تو مانگے اور ہم نہ دیں یہ کیسے ہو سکتا ہے واقعی اگر کوئی شخص تمام دن تسبیح لیکر یہ رٹا کرے کہ اے اللہ مجھ کو کھانے کو نہ دیجئیو تب بھی ملے گا مگر رزق کی اسی پریشانی سے کسی پر ضعف ایمان کا حکم نہ لگا سکتے امور طبعیہ میں انسان معذور رہے اور ان طبعیہ کے مناشی بھی اکثر واقعات غیر اختیاریہ ہوتے ہیں بعض واعظین بڑی زیادتی کرتے ہیں سطحی نظر سے مسلمانوں پر غلط فتوی لگا دیتے ہیں چناچہ وعظوں میں اکثر کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو خدا پر اتنا بھی بھروسہ نہیں جس قدر ایک دعوت کر دینے والے پر ہوتا ہے کہ کوئی دعوت کر دے تو کھانا نہیں پکواتے پورا یقین ہوتا ہے کہ کھانا آویگا اور خدا تعالٰی کے وعدہ پر یقین نہیں مگر ان واعظ صاحب کو یہ معلوم نہیں کہ یہ قیاس مع الفارق ہے کیونکہ جس وعدہ میں وقت اور پیسہ مبہم ہو وہاں طبعی پریشانی ہوتی ہے ـ مثلا دعوت کرنے والا ہی یہ کہدے کہ کسی جگہ سے کھانا آویگا تو ایسی دعوت پر کسی کو بھی بھروسہ نہ ہوگا پس اس طرح وعدہ الھیہ میں وقت اور سبب مبہم ہے تو اس میں پریشانی ہونا منافی توکل نہیں اعتقاد تو یقینا یہی ہے کہ خدا تعالٰی کا وعدہ سچا ہے مگر وقت اور سبب نہ معلوم ہونیکی وجہ سے طبعی پریشانی ہوتی ہے تو اس میں دو درجے ہیں اعتقادی اور ایک طبعی جس طرح ہر مسلمان کے قلب میں حق تعالٰی کی خشیت ضرور ہے مگر اس میں بھی وہی تقسیم ہے یعنی ایک خشیت اعتقادیہ ایک خشیت طبعیہ اسی طرح کوئی شخص مومن نماز پڑھتا ہے اور اس میں کسل ہوتا ہے تو یہ کسل اعتقادی نہیں کسل طبعی ہے اگر اعتقادی ہوتا تو پڑھتا ہی کیوں تو امور طبعیہ سے اپنی بد حالی کا گمان کر کے پریشان نہ ہونا چاہیئے اور ان اصول کے استحضار کے بعد بھی اگر پریشانی ہو تو یہ جہل ہے یا کید نفس ہے اسکو علم صحیح میں قید کرنا چاہیئے اور حضرت اگر یہ موانع طبعیہ مانع نہ ہوں تو پھر عبادت میں اجر ہی کس بات کا ہونا واقف ان موانع کا ازالہ کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ موانع حکمت کے لئے پیدا ہوتے ہیں ازالہ کے واسطے پیدا نہیں کئے گئے ہاں امالہ کی ضرورت ہے مثلا انسان کے اندر طاعات سے ایک بڑا مانع شہوت ہے مگر اسکی حکمت کو مولانا فرماتے ہیں ـ
شہوت دنیا مثال گلخن است ، کہ از و حمام تقویٰ روشن است
یعنی اس شہوت سے تقوے کا حمام گرم ہوتا ہے روشن ہوتا ہے اس طرح دنیا کی شہوت اور رغبت سے داعیہ معصیت کا پیدا ہوا ادھر عقل اور دین کی قوت سے اس کی مقاومت کی بس ملکر درویشی ہوگئی ایک عورت نے دوسری عورت سے پوچھا تھا کہ فوج کسے کہتے ہیں اس نے کہا تیرا میاں میرا سب ملکر فوج ہو گئی مگر لوگوں نے درویشی کو کم فہمی کے سبب مصیبت بنا دیا تھا مقاصد یعنی اعمال کو غیر مقاصد اور غیر مقاصد یعنی کیفیات طبعیہ مثلا زوال داعیہ شہوت و غضب کو مقاصد سمجھ لیا شریعت کی حقیقت اصلیہ یعنی رسوخ اعمال اگر حاصل ہو جائے بس یہ ہی درویشی ہے اسی کی تدابیر کو طریقت کہتے ہیں ـ
