( ملفوظ 133 ) تدبر اور تقدیر کا مسئلہ

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ یہ مسئلہ تدبیر اور تقدیر کا ایسا ہے کہ اہل علم کو بھی اس میں زائد از ضرورت کلام کرنیکی اجازت نہیں ـ مگر اس سے جو اصل مقصود ہے یعنی تفویض ـ وہ البتہ دستور العمل بنانے کے قابل ہے ـ اسی کو ایک بزرگ نے سوال کے جواب کی صورت میں لکھا ہے ـ سوال یہ ہے کہ جب تقدیر کے سامنے تدبیر کوئی چیز نہیں تو تدبیر کع مشروع کیوں فرمایا گیا جواب یہ دیا کہ اسی واسطے مشروع فرمایا گیا کہ یہ تدبیر کریگا اور تقدیر اس کو توڑے گی پھر کرے گا پھر کرے گا پھر توڑے گی اس اعتقاد کو پختہ کرنے کے لئے کہ تقدیر کے مقابلہ میں تدبیر کوئی چیز نہیں ـ تدبیر کو مشروع کیا گیا یہی حاصل ہے تفویض کا عجیب لطیف جواب ہے اور میں کہتا ہوں کہ اس سے جو بعض نے دعا کو بھی بیکار سمجھ لیا یہ محض غلط ہے یہ کسے معلوم ہوا کہ دعا بیکار ہے صرف اس وجہ سے بیکار سمجھ لیا کہ جو مانگا تھا وہ نہیں ملا ـ سو یہ مقدمہ ہی غلط ہے ـ یہ کیا ضرور ہے کہ جو مانگے وہی مل جاوے ـ مانگنے والا اپنے حوصلہ اور ضرورت کے موافق سوال کرتا ہے مگر دینے والا اپنی مصلحت و حکمت کے موافق دیتا ہے ـ خواہ وہی چیز دیدے یا اس کا نعم البدل دیکھو ـ بعض اوقات بچہ پیسہ مانگتا ہے ـ باپ انتہائی شفقت کی بناء پر اس کو روپیہ نکال کر دے دیتا ہے ـ مگر اس پر کوئی عاقل یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ بچہ اپنے مقصد میں ناکام رہا ـ یہی کہا جاوے گا کہ یہ اعلٰی درجہ کا کامیاب ہے مگر وہ بچہ اپنی کم عقلی اور روپیہ کی حقیقت سے بے خبر ہونیکی وجہ سے اس روپیہ سے خوش نہیں ہوا ـ اس لئے اس کے لینے سے اعراض ہے روتا چلاتا ہے ـ اینٹھتا ہے اور پیسہ ہی طلب کرتا ہے تو کیا اس کا ایسا کرنا کم عقلی پر دال نہ ہوگا ـ اسی طرح یہاں پر سمجھ لیجئے کہ مثلا دنیا کی کوئی حاجت خدا سامنے پیش کی اس کی دعاء کی یا اس کے حصول کے لئے ظاہری تدبیر کی کہ وہ بھی عملی دعا ہے ـ حق سبحانہ تعالی نے بجائے اس حاجت کے اس سے بہتر چیز عطاء فرمائی جسکو یہ نہیں سمجھا کہ یہ عطیہ اس سوال پر ہوا ہے یا کسی سماوی و اراضی آنیوالی بلا کو روک دیا گیا ـ یہ بھی تو کامیابی ہے یا کسی نیک عمل کی توفیق عطا فرمادی جو سب سے اعلی درجہ کی کامیابی ہے اگر ناکامی کے یہ معنی ہیں اور اس کو ناکامی سمجھتے ہو تو فی الحقیقت یہ سمجھتا البتہ ناکامی کیا بلکہ کم نصیبی بدبختی ، کم عقلی ، کم فہمی ہے ـ بعض لوگ چند روز دعاء کر کے چھوڑ بیھٹتے ہیں کہ ثمرہ تو مرتب ہوتا ہی نہیں ـ کیا دعا کریں – میں کہتا ہوں کہ اچھا پھر اور کونسا تلاش کیا ہے ـ جہاں ثمرہ مرتب ہوگا اس کی بالکل ایسی مثال ہے کہ ایک شخص کے پاس صندوق کی کنجی ہے – اس سے کہتے ہیں کہ قفل کھول دے ـ وہ کسی مصلحت سے نہیں کھولتا ـ پھر دوبارہ کہتے ہیں وہ تب بھی نہیں کھولتا مگر صندوق جب بھی کھلے گا اسی کے کھولنے سے کھلے گا ـ اس لئے کہ اس قفل کی کنجی اسی کے پاس ہے ـ بس دعاء کی مثال ایسی ہی حق سبحانہ تعالی ہی کے ہاتھ میں سب کچھ ہے – ان ہی کی عطاء سے مقصد میں کامیاب ہو سکتے ہو ـ بدون ان کی عنایت اور رحمت کاملہ کے دوسری کوئی سبیل کامیابی کی ہی نہیں مگر صرف اتنی بات ہے کہ بعض مرتبہ نہ کھلنا ہی مصلحت ہوتا ہے تو اس سے مایوسی نہ ہونا چاہیئے ـ دوسری مثال مثلا مل کا پھاٹک گاڑی آنے کے وقت بند ہو جاتا ہے ـ کسی نے یہ کہہ دیا آٹھ بج کر دس منٹ پر کھلنے کا معمول ہے ـ یہ دوسری طرف جانے کے لئے اس کے انتظار میں ہے مگر جب وہ وقت آیا کسی مصلحت سے نہیں کھلا تو کیا وہ اس کا کوئی نوکر ہے ممکن ہے کہ ابھی ریل نہ آئی ہو ـ اس لئے پھاٹک بند ہے ـ سو ایسے میں اگر موٹر والا آجائے اور کہے کہ کھول دو سو بعض دفعہ چوکیدار رعایت کر کے کھول دیتا ہے اور اسی وقت اوپر سے ریل آجاتی ہے تب معلوم ہوتا ہے کہ نہ کھولنا ہی حکمت تھا کھولنا غضب ہو گیا ـ