ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ نری عقل سے کیا کام پن سکتا ہے جب تک کہ تائید غیبی نہ ہو بڑے بڑے فلاسفر یونان منزل مقصود پر نہ پہنچ سک ویسے ہی ٹکریں مار کر اور ٹھوکر یں کھا کر مرگئے اور بہت سے بھولے بھاگے لوگ منزل مقصود پر نہ پہنچ گئے تو جوبے عقلی محبوب تک رسائی کا سبب ہو وہ مبارک ہے اس کہ وہ موصل الی اللہ بن گئی اور وہ عقل نامبارک ہے جو محبوب کے راستہ سے دور لے جائے اور محبوب سے مفارقت پیدا کرادے ایسی ہی عقل کو فرماتے ہیں ۔
آزمودم عقل دور اندیش را بعد ازاں دیوانہ سازم خویش را
یعنی جب عقل سے کام نہ چلا تو اپنے کو دیوانہ بنادیا یہ مطلب نہیں کہ عقل سے کام نہیں لیا یہ تو اعلی درجے کی عقل ہے کہ اپنے مقصود کو ہاتھ سے نہ چھوڑا بلکہ مقصود یہ ہے کہ عقل کے اتباع میں غلو کو پسند نہیں کیا ہرچیز کو اس کی حد پررکھا جہاں تک عقل کا کام ہے وہاں تک اس سے کام لیتے ہیں اور جہاں اس کا کام نہیں وہاں اس سے کام لینے کی نسبت کہا جاتا ہے
فکر خودو رائے خود دور عالم رندی نیست کفر است دریں مذہب خود بیتی وخود رائی
تکیہ بر تقوی و دانش ور طریقت کافری است راہر و گر صد ھنر دار و توکل بایدش
(اپنی فکر اور خود رائی عالم ندی میں بے کار ہے ( بلکہ ) اس مذہب میں خود اور خود رائی ( بمنزلہ ) کفر (کے) ہے اپنی عقل اور تقویٰ پر بھروسہ کرنا ، بمنزلہ انکار کے ہے سالک کو اگر ہزاروں ہنر بھی حاصل ہوں توں تو اس کو خدا پر ہی بھروسہ کرنا چاہئے ۔
