ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اپنے بزرگ بحمداللہ بے نظیر جامع کمالات تھے چنانچہ باوجود اس کے مولانا فیض الحسن صاحب بہت بڑے ادیب ہیں جلالین پران کا حاشیہ بھی مشہور ہے وہ چھپا ہوا میرے پاس بہت دنوں تک رہا بھی ہے مگر اس میں کوئی خاص عجیب تحقیق نظرآئی اور مولانا محمدیعقوب صاحب رحمہ اللہ ایسے ادیب مشہورنہ تھے مگرمولانا کی تقریرات سے جوبہت سے مقامات مجھ کومنضبط بھی ہیں معلوم ہوتا ہے کہ عربیت سے اس قدرمناسبت تھی کہ دیکھنے والا پھڑک جاتا ہے اس وقت ایک مقام یاد آگیا آیت الزانیۃ والزانی اور آیت السارق والسارقۃ کے متعلق ( پہلی آیت میں ) الزانیتہ کی تقدیم اور دوسری آیت میں السارق کی تقدیم کے بارہ میں مشہورسوال ہے جس کا سب سے لطیف جواب منقول ہے کہ سرقہ کی بنا جرات ہے اور وہ مرد میں زیادہ ہے اور زناء کی بناء شہوت ہے جوعورت میں زیادہ ہے مگر اس جواب میں یہ خدشہ ہے کہ اس فرق کو بناء کہتے ہیں تو مجرم کی ایک قسم معذوری کا اظہار ہے اور مقام یہ ہے تقیح کا اب مولانا کی توجیہ سنئے فرماتے تھے کہ سرقہ کا صدور مرد سے زیادہ عجیب اور قبیح ہے کہ وہ کما کرکھا سکتا ہے اورعورت میں عفت وشرم وحیا زیادہ ہوتی ہے اس سے زنا کا صدور زیادہ عجیب وقبیح ہے میں نے کسی تفسیر میں یہ بات نہیں دیکھی جوحضرت مولانا محمدیعقوب صاحب رحمہ اللہ سے سنی مولانا سے میں نے جلالین کے بیس پارے پڑھے ہیں اکثر مقامات میں ایک عجیب بات ارشاد ہوتی تھی گواب سب زیادہ رہا مگر کچھ کچھ یاد ہے اور پھر باوجود ان کمالات کے یہ حالت تھی کہ اپنے کو بلکل مٹائے ہوئے اور فنا کئے ہوئے تھے اورآج کل اکثروں کی یہ حالت ہے کہ نہ علوم ہیں نہ عمل نہ کوئی تحقیق ہے نہ کوئی تدقیق ہے مگر ویسے ہی جامے سے باہر ہوئے جاتے ہیں دیکھئے ہمارے بزرگ جوہرطرح پرصاحب مال تھے ان کو جو بھی خطابات دیئے جاتے اور جن القاب سے یاد کیاجاتا تھوڑا تھا مگر ان حضرات کا انتہائی لقب مولانا تھا ورنہ اکثر مولوی صاحب کہلاتے تھے اورآج کل جن لوگوں کو ان سے کچھ بھی نسبت نہیں وہ شیخ الحدیث شیخ التفسیر، امیرالہند امام الہند کہلانے لگے یہ سب نئی ایجاد ہے البتہ شیخ الاسلام پرانا لقب ہے اس سے طبیعت میں انقباض نہیں ہوتا اور خیریہ القاب تو پھربھی علم سے تعلق رکھتے ہیں مگرآج کل تو جانوروں تک کے خطابات باعث فخر اور پسندیدہ سمجھے جاتے ہیں یہی حوانیت کا غلبہ اس زمانہ میں ہوگیا ہے ، مثلا طوطی ہند، بلبل ہند، شیرپنجاب معلوم ہوتا ہے اب کچھ دنوں کے بعد فیل ہند ، اسپ ہند ، پیدا ہونگے کیا خرافات ہے خدا بھلاکر لے اس جاہ کا اس نے اندھا بنارکھا ہے اور سنئیے کہ ان میں لکھے پڑھے بھی نہیں مگرامام التفسیر شمس العلماء یہ خطابات اورالقاب یہ سب نیچریت کے ماتحت ہیں لوگوں کو ان باتوں میں کچھ مزہ آتا ہے استغفراللہ ۔
