(ملفوظ 122) آہستہ بولنے پر حضرت کو سخت ایذا

ایک صاحب کی غلطی پر مواخذہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ یہ ایک دوسری ایذا ہے کہ اسطرح  بولتے ہیں کہ جیسے کوئی والی ملک نواب ہوتے ہیں کہ آواز بھی نہیں نکلتی۔ جب میں سنوں گا ہی نہیں تو جواب کیا خاک دوں گا، تم لوگوں کی عقلیں کہاں گئیں آخر؟ میں کمبخت کہاں تک برداشت کروں اور کہاں تک ضبط کروں کوئی حد بھی ہے؟ آپ نے دیکھا میں نے کیسا سیدھا سوال کیا تھا اس کا جواب ندارد اور خود اپنی طرف سے مجذوبوں والی بڑ ہانکتے ہیں اور وہ بھی ایسے طریقے سے کہ پورے طور سے کوئی سن ہی نہ سکے یہ حرکت بھی ایک مرض کے ماتحت ہے وہ مرض کمبخت کبر کا ہے کہ زور سے بولوں گا تو بات کھلے گی ممکن ہے کہ بات ہو بے ڈھنگی تو اتنے لوگوں میں سبکی ہوگی اس لئے آہستہ بولتے ہیں کہ دوسرا کوئی نہ سن لے اور یہ گول مول ہی بات رہ کر معاملہ ایک طرف ہو یہ ہے وہ بناء جو آہستہ بولنے کی دل میں تعلیم  دے رہی ہے اور ہاں چادر سے منہ چھپا رکھا ہے جیسے چورہوتے ہیں ایک تو آپکی آواز ہی بہت بلند ہے اور اوپر سے اسکو چادر سے لپیٹ  دیا جس سے وہ اور بھی سمجھ میں نہیں آتی ۔  یہ چادر لپیٹ کر منہ ڈھانپ کر بولنا یہ بھی آجکل علامت بزرگی کی ہے کیا کریں ویسے تو آدمیت سے کورے ہیں اس کے چھپانے کے لئے ظاہری ٹیپ ٹاپ بناؤ سنگھار میں بھی رہتے ہیں اور بولنے میں بھی اسکے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ غرض ہر پہلو سے اپنے عیوب کو چھپاتے پھرتے ہیں مگر یہاں آکر قواعد کی برکت سے بحمداللہ سب راز فاش ہوجاتا ہے۔ (مزاحاً فرمایا اور دل قاش (تراشیدہ ) ہوجاتا ہے۔) اگر یہ برتاؤ نہ ہو تو اصلاح کیسے ہو۔ اور معلوم نہیں ساری دنیا ہی میں بد فہم لوگوں کی زیادہ آبادی ہے یا میرے ہی حصہ میں چھنٹ چھنٹ کر آتے ہیں کہ کوئی مدرسہ ہے بدفہمی کا کہ اس میں تعلیم پاکر اور سند لیکر آتے ہیں اب اگر کچھ کہتا ہوں تو بدنام ہوتا ہوں اور نہیں کہتا تو اصلاح نہیں ہوتی۔اور کہنے میں میری کوئی مصلحت تھوڑا ہی ہے ان ہی کی بہبود ان ہی کی مصلحت سے ایسا کرتا ہوں کہ یہ آدمی نہیں حیوانیت سے نکلیں اب اس موقع پر معترض حضرات آئیں اور واقعہ مرتب دیکھ کر فیصلہ کریں کہ ظالم کون ہے اور مظلوم کون   اور یوں یہ گھر بیٹھے فیصلہ کردینا کونسا مشکل ہے مجھ کو بد خلق کہتے ہیں ان موذیوں کے اخلاقِ حمیدہ کو بھی تو دیکھ لیا کریں۔

اس پر ان صاحب نے عرض کیا کہ میری وجہ سے حضرت کو تکلیف پہنچی ہے معافی چاہتا ہوں فرمایا بس مہربانی کرکے چپ ہی رہو اب بھلی زبان کھلی دیکھو کیسے صاف بولے نوابی اور سرداری سب ختم ہوگئی، بدون داروگیر دماغ درست نہیں ہوتا یہ دار و گیر ان لوگوں کی غذا ہے میں ان کی نبضیں خوب پہچانتا ہوں یہ تجربہ کی باتیں ہیں جب یہ حالت ہے تو میں کسی کے کہنے سننے سے اپنے طرز کو کیسے بدل دوں۔ آپ ہی انصاف کریں کہ یہی صاحب تھوڑی دیر پہلے کیا تھے اور چند منٹ میں کیا ہو گئے یہ فرما کر ان صاحب سے دریافت کیا کہ پہلے ہی اسطرح کیوں نہیں بولے تھے عرض کیا قصور ہوا معاف کردیجئے اب ایسا نہ کروں گا۔فرمایا یہ میرے سوال کا جواب نہیں ہوا معاف تو ہے اور آئندہ ایسا کروگے بھی نہیں مگر اسکا جواب دو کہ ایسا کیا کیوں ؟ اسکا منشاء کیا تھا؟ عرض کیا کہ واقعی دل میں یہی بات تھی جو حضرت نے فرمائی کہ اور لوگ نہ سنیں کہیں مجھ کو بدعقل اور بدتمیز سمجھیں۔ فرمایا لیجئے سن لیجئے پھر دریافت فرمایا کہ کہیں اس میں تو جھوٹ نہیں بول رہے کہ میری خاطر سے خلاف ِ واقعہ کہہ دیا۔ عرض کیا کہ میں قسم کھاتا ہوں یہ ہی بات تھی۔ فرمایا کہ خیر تمہاری اس سچائی کی وجہ سے کہ تم نے اپنے مرض کا اقرار کرلیا تم کو خیر خواہانہ مشورہ دیتا ہوں کہ تم کو میں مصلح کا نام بتلائے دیتا ہوں ان سے اپنی اصلاح کراؤ اور میرے پاس ویسے آنے کی اجازت ہے مگر یہاں پر آکر خاموش بیٹھے رہنا ہوگا مکاتبت مخاطبت کی قطعاً اجازت نہیں ہوگی اور آنے سے پہلے اجازت حاصل کرلینا ضروری ہوگا  کہ کبھی گڑبڑ کرو ۔ اور اس کی صورت یہ ہے کہ تم   ایک پرچہ پر  اپنا  نام اور پورا پتہ اور اس واقعہ کا اجمالی ذکر اور یہ درخواست کہ مصلح کا پتہ  بتلادیا جائے یہ سب اس پرچہ پر لکھ کر بکس میں ڈال دینا جو سہ دری میں لگا ہے پھر اس پرچہ کا جب میں جواب دوں گا جس پر مصلح کا پتہ بھی لکھ دوں گا وہ جواب کا پرچہ اور ایک اور پرچہ جس میں یہ لکھنا کہ مجھ میں کبر کا مرض ہے اور میں اس کے (یعنی میرے) پاس گیا تھا اوراس نے تمہارا پتہ بتلادیا اور مجھ سے یہ غلطی ہوئی تھی یہ سب صاف صاف لکھ کر تجویز شدہ مصلح کے پاس بھیج دینا پھر وہاں سے جو تعلیم ہو اس پر عمل کرنا اور ان سے بیس بار خط و کتابت کرنے کے بعد وہ سب خطوط مجھ کو دکھلانا اس کے بعد میں اسکو دیکھ کر پھر جو تمہارے لئے مناسب ہوگا تجویز کروں گا اس سے قبل مجھ سے اصلاح کے معاملہ میں خط و کتابت نہ کرنا ہاں اگر کبھی خیریت معلوم کرنے کو جی چاہے اسکی اجازت ہے مگر یہ شرط ہے کہ اس میں اور کوئی مضمون نہ ہو ۔ پھر فرمایا کہ ان کے اقرار کرنے نے میرے دل سے ساری کلفت دھودی اور فوراً طرز بدل گیا، اس پر لوگ مجھ کو سخت گیر اور بد اخلاق کہتے ہیں، کیا یہ بد اخلاقی ہے جس کو آپ صاحبوں نے دیکھا؟

(ملفوظ 79)پہلی ملاقات میں ہدیہ نہ قبول کرنے کا معمول

(ملفوظ۷۹) ایک صاحب نووارد حاضر ہوئے اور کچھ چیزیں بطور ہدیہ اپنے ہمراہ لائے تھے اس ہدیہ میں ایک ایسے صاحب کا بھی ہدیہ تھا کہ جن کو حضرت والا سے خصوصیت کا تعلق ہے ان آنے والے صاحب سے حضرت والا کے ضروری تعارف کے متعلق دریافت فرمانے پر بھی انہوں نے اپنا پورا تعارف نہیں کرایا اس لئے حضرت والا نے ہدیہ قبول فرمانے سے عزر فرمادیا اور صاحب خصوصیت کا ہدیہ بھی واپس کردیا اور فرمایا کہ پہلی ملاقات میں یا اس کے بعد بھی جب تک کہ باہم بے تکلفی پیدا نہ ہو کسی شخص کا ہدیہ قبول کرنا میرے معمول کے خلاف ہے اور آپ نے تو عدم تعلق کی مانعیت کے علاوہ آتے ہی اذیت پہنچانا شروع کردی اور مجھ کو ستایا بھلا اس شخص کے ہدیہ سے کیا جی بھلا ہو سکتا ہے اور ان صاحب خصوصیت کے ہدیہ کی نسبت فرمایا کہ جن حضرات کا مجھ سے خصوصیت کا تعلق ہوں ان کو بھی ایسے شخص کے ہاتھ ہدیہ بھیجنا نہ چاہیے جو پہلی مرتبہ آ رہا ہو یہ اصول کے خلاف ہے اس لئے کہ نامعلوم اس آنے والے کی مصلحت کی بنا پر اس سے کیا برتاؤ کیا جائے اور کیا معاملہ کیا جائے اور محسن کی وجہ سے واسطہ احسان کو بھی رعایت کرنا پڑتی ہے اور اس وجہ سے جانبین کی مصلحت برباد ہوتی ہے کیونکہ اس سے بعض اوقات اس کے اخلاق خراب ہوتے ہیں پھر ان نووارد کے متعلق فرمایا کہ یہاں تو صدق اور خلوص کی ضرورت ہے لوگ سمجھتے ہیں فلوس سے کام چلتا ہے اس لئے بیچارے ہدیہ لائے تھے بلکہ ان صاحب کو چاہیے تھا کہ جب پہلے سے مجھ سے خط وکتابت جاری ہے تو بجائے ہدیہ کہ وہ خطوط اپنے ہمراہ لاتے اس سے بڑی سہولت ہوتی تعارف میں مدد ملتی آکر وہ خطوط دکھلا دینے سے ان سوالات کی نوبت ہی نہ آتی مگر خدا ناس کرے اس بے فکری اور بد سلیقکی کا کہ اس کی بدولت لوگ بے اصول طریق اختیار کرکے خود سیدھے اور صاف معاملہ کو الجھا لیتے ہیں پھر مجھ کو بد نام کرتے ہیں ۔ دوسرے یہ کہ بدون تعلق اور محبت کے کہیں جانا فضول ہے آدمی جس کے پاس جائے کم از کم دل میں اس کی محبت و عظمت تو ہو ورنہ کیا فائدہ جانے سے۔ نیز میں چاہتا ہوں کہ بات بالکل صاف اور اس قدر صاف ہو کہ پھر گنجائش ہی نہ رہے صاف کرنے کی اور لوگ ہیں کہ وہ اس کو اس قدر خفا( پوشیدہ ) اور ا لجھن میں رکھنا چاہتے ہیں کہ صاف کو بھی گڑ بڑ میں ڈال دیتے ہیں آخری نتیجہ اس کا لڑائی ہی ہے یہ ہیں وہ معاملات جن پر مجھ کو سخت مشہور کیا گیا ہے آپ لوگ دیکھ رہے تھے کہ میں نے ہر بات میں ان صاحب کو کتنی گنجائش اور وسعت دی کہ یہ بسہولت اپنے مالی الضمیر کو ظاہر کردیں مگر نہین وہی ایچ پیچ۔ اتنا بڑا سفر کیا خرچ کیا سفر کی صعوبت ( تکلیف)برداشت کی تو کیا گھر سے بلا تعین مقصود چل دیئے تھے یہ ذہن میں نہ تھا کہ میرا مقصود اس سفر سے کیا ہے سو جس مقصود کا اس وقت ارادہ کر کے اور قلب میں اس کا تعین کرکے چلے تھے وہی مجھ پر ظاہر کردینا چاہئے تھے اور خود تو کیا ظاہر کرتے میرے دریافت کرنے پر بھی نہ بتلایا کہ میں کہاں سے آیا ہوں اور کون ہوں اور کیا کام کرتا ہوں ادھر ادھر کی ہانکنا شروع کردیا میری رعایت اور سہولت کی یہ قدر کی کہ اور الجھن پیدا کرتے رہے ،جہاں تک پہنچے بات کو بڑھایا ہی گھٹایا نہیں یہ فرماکر اس نے فرمایا کہ اسلم یہ ہے کہ آپ اس وقت واپس وطن تشریف لیجائیں اور وہاں سے خط و کتابت کرکے معاملہ طے کریں بشرطیکہ آپ کا بھی جی چاہے ورنہ میری کوئی غرض نہیں نہ مجھ کو انتظار ہوگا وہ صاحب مجلس سے اٹھ کر چل دئے فرمایا ایسے ایسے کوڑ مغز یہاں آتے ہیں میں نے تو ان کی شیروانی کی قدر کی تھی ( وہ شیرونی پہنے ہوئے تھے اور معززہیت میں تھے ) مگر ان کے اخلاق گرگ (بیھڑیا) جیسے نکلے شیرونی نہ نکلے ( اس میں گرگ اور شیر کے تقابل کا لطیفہ ہے)

( ملفوظ 60 )آداب معاشرت کی تعلیم

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہاں پر لوگوں آتے ہیں تعویز وغیرہ مانگتے ہیں مگر باستثناء قلیل کوئی پوری بات نہیں کہتا اس پر میں منتبہ کردیتا ہوں تو بد مزاجی میں بدنام کرتے ہیں تو کیا ہم لوگ مٹی پتھر ہیں لوگ کبھی کسی تھا نہ دار یا تحصیلدار کے سامنے ایسا کرسکتے ہیں وہاں دیہاتی پن جاتا رہتا ہے بد تہزیبی سے بات کرنا حقیقت میں سناتا ہے یہ سلسلہ گفتگو جاری ہی تھا کہ دیہاتی شخص آیا آگر بیٹھ گیا خود کچھ نہیں کہا حضرت والا نے دریافت فرمایا کہ کہاں سے آئے ہو عرض کیا فلاں جگہ سے آیا ہو ں فرمایا اگر ئی کام ہوتو کہہ لو اس پر وہ شخص رہا اور حضرت والا کے چند بار دریافت فرمانے پر بہت آہستہ سے عرض کیا کہ ایک تعویز کی ضرورت ہے فرمایا کہ موذی اس قدر پریشان کرکے اب کہتا ہے کیا پہلے سے زبان سہل گئی تھی جب اچھی طرح ستالیا اور وہ بھی میری میرے کئی مرتبہ کے پو چھنے کے بعد کہ مجھ دے کیا کام لینا ہے تب بوکا وہ بھی ایسے طرز سے جیسے کوئی نواب بولتا ہے اب اس کا جواب یہ ہے میں تعویز گنڈے نہیں جانتا یہ کسی عامل کا کام ہے میں تو نماز روزہ کے مسائل جانتا ہوں چل یہاں سے دور ہو یہودہ – کام اپنا غرض اپنی اور نخری دوسروں پر جیسے کوئی ان کے باپ کا نوکر ہے کہ جیسا چاہا برتاؤ کیا اور پھر بولے بھی نواب صاحب نے ادھوری بات کہی یعنی پھر نہیں بتلایا کہ کس بات کا تعویز میں آخر کہاں تک ان لوگوں کے اقوال افعال کی بیٹھا ہوا تاویل کیا کروں انھوں نے تو قسم کھالی ہے کہ کبھی سیدھی بات اور پوری بات بات نہ کہیں گے یہ ہیں وہ باتیں جن پر مجھ کو بدنام کیا جاتا ہے کبھی ریل کے ٹکٹ گھر جاکر بھی پیسے رکھ کر کھڑے ہوگئے ہوں اور اتنا ہی ہوں ٹکٹ دیدیا بابو کے پوچھنے جا انتظار کیا ہو یار بازار سودالینے گئے ہوں اور دکان پر چار آنے پیسے رکھ کر کھڑے ہوگئے ہوں اور سودے کا نام نہ لیا اور بابو یا دوکاندار کی شکایت پر کہہ دیا ہو کہ ہم میں قابلیت نہیں وہاں قابلیت کہاں سے آجاتی ہے –