ایک خط کے جواب کے سلسلہ میں فرمایا کہ ہر شخص کیلئے جدا علاج ہے کسی کو کم کھانا مفید ہے اور کسی کو بالکل نہ کھانا اور کسی کو خوب کھانا جس کو ضعف بڑھ جانے کا اندیشہ ہو ایک شخص تھے چرتھاول میں ان کی تہجد کی نماز کے لئے آنکھ نہ کھلتی تھی انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ جس روز ایسا ہوتا ہے صبح کو روزہ رکھ لیتا ہوں مگر اس سے بھی کچھ نہ ہوا میں نے کہا کہ یہ تمہارے لئے اور زیادہ کسل کا سبب ہوگا ـ اس لئے کہ جب روزہ سے رہو گے خوب تن کو کھاؤ گے ـ تن کے پیو گے تو نشہ ہوکر اور کسل بڑھیگا ـ کہا کہ ہوا تو ایسا ہی میں نے کہا کہ یہ تدبیر کرو کہ عصر سے قبل کھانا کھاؤ اور ذرا کم کھاؤ اور مغرب سے پہلے پہلے پانی جس قدر پیاس ہو پی لو پھر نہ پیو تدبیر کامیاب ہوگی ـ
