ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ یہ معتقدین سائنس تومحض بیہودہ ہیں اللہ کے نہیں رسول کے نہیں ، ان میں دین نہیں ایمان نہیں شب وروز یہ ہی مشغلہ ہے کہ فلاں پہاڑ کے یہ آثار ہیں فلا ں ستارے میں مخلوق آباد ہے آیا آسمان گردش کرتا ہے اور زمین ساکن ہے یا زمین گردش کرتی ہے اور آسمان محض منتہائے نظر ہے اگر بالفرض یہ تحقیقات صحیح بھی ہوں مگر ان کا نتیجہ ہی کیا نہ دنیا کا فائدہ نہ دین کااس کے بعد ایک واقعہ سائنس کے اس دعوے کے اشکال
میں کہ کوئی حادث بدون اسباب طبعیہ کے نہیں ہوسکتا بیان فرمایا وہ یہ کہ اس ہی قصبہ میں ابھی چند روز ہوئے ایک عجیب واقعہ پیش آیا جس کو میں نے خود صاحب واقعہ کو بلاکربلا واسطہ اس کی زبان سے سنا کہ ایک غریب آدمی کے گھرتقریب تھی اس میں مہمان آیا ہواتھا وہ ایک کمسن لڑکی کو کسی بہانہ سے لےکر بھاگا اوریہ لے جانے والاشخص اس لڑکی کا رشتہ میں ماموں ہوتا تھا رشتہ بھی دور کا نہ تھا اور جو بناء لے جانے کی تھی وہ بھی کوئی بڑی مالیت کی چیز نہ تھی رائد پانچ سات روپیہ کی چیز ہوگی جس کے لالچ میں وہ اس کولے کربھاگا اور اس کو تھانہ بھون سے مظفر نگر اور مظفرنگر سے نہر گنگ پرلے گیا اور چیز اتار کراس کو ہرمیں پھینک دیا میں نے خود اس لڑکی کو بلاکر سب واقعہ دریافت کیا بیان کے وقت لڑکی خوف زدہ معلوم ہوتی تھی ایسا معلوم ہوتاتھا کہ وہ منظر اب اس کے سامنے ہے عمر لڑکی کی زائد سے زائد تقریبا آٹھ نو برس ہوگی اس بیان ہے کہ جس وقت اس نے مجھ کو نہر میں پھینکا تو میرے پانی میں گرتے ہی ایک سفید کتا میرے سامنے آگیا اور اپنی دم میرے طرف کردی میں نے اس کی دم پکڑلی وہ مجھ کو دورپانی میں لے کر چلا اور پھر ایک گھاٹی پرنہرکے کنارے لے گیا وہاں ایک درخت تھا جس کی شاخیں نہر کی طرف جھکی تھیں میں شاخ کے سہارے ہوہاں سے نکل کرنہرکی پٹری پرپہنچ گئی شام کا وقت ہوگیا وہاں کچھ مویشی چرانے والے اپنے مویشی نہرکے قریب چرارہے تھے مجھ کو بیٹھا دیکھ کر مجھ کو گاؤں میں لے گئے وہاں لوگ میرے پاس تماشا دیکھنے جمع ہوگئے ان تماشائیوں میں خود وہ ڈبونے والا بھی تھا جوایک قریب کے گاؤں میں اس وقت ٹھہرگیا تھا اس لڑکی نے پہچان کربتلادیا کہ یہ شخص تھا وہ گرفتار ہوگیا اور چالان ہوگیا تفشیش پراقرار کرلیا اب اس کا مقدمہ ہورہاہے میرا مقصود اس قصہ کے بیان کرنے سے یہ ہے کہ کتے کا دریا سے اس طرح نکالنا ان سائنس دانوں سے کوئی پوچھے کہ اس کا کیا اقتضاء طبعی تھا جس کی بناء پراس نے دریا سے نکالا کوئی معقول بات بتلائیں اور یوں اڑنگ بڑنگ ہانکنے کوتو جوچاہے کہے جاؤ ۔
