ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ تحریکات حاضرہ میں کس قدر جلد دینی انقلاب ہوگیا اور یہ تو اس حالت میں ہے کہ یہ لوگ اپنے مقصد میں ناکام رہے اگر سوراج مل جاتا اور کامیابی ہوجاتی تب دیکھتے کہ دین کا کیا حشر ہوتا اور عوام تو بیچارے کس شمار میں ہیں علماء تک اس گڑبڑ میں پھنس گئے اور حدود سے گذر کربے قیدی کے میدان میں آکھڑے ہوئے اور زیادہ گمراہی ان ہی لوگون کی وجہ سے پھیلی اس لئے کہ یہ لوگ مقتدا اور پیشوا کہلاتے ہیں تو ان کا اثر ہونا ہی چاہئے تھا بعضوں کی بے قیدی سن کرآپ کو تعجب ہوگا کہ ایک مشہور عالم نے اپنے وعظ میں سہارنپور میں بیان کیا کہ بعض لوگ خوامخواہ کے اوہام میں مبتلا ہیں کہتے ہیں کہ اگر سوراج مل گیا تو ہندو مسجدوں میں اذان نہ ہونے دیں گے توصاحبو کیا گھرمیں نماز نہیں ہوسکتی اور کہتے ہیں کہ گائے کی قربانی نہ ہونے دیں گے توکیا بکرے کی قربانی نہیں کرسکتے کیا گائے کی قربانی فرض و واجب ہے ، یہ واعظ ہیں اور عالم کہلاتے ہیں اتنی بات کہنے کی اور رہ گئی کہ اگر وہ اسلام پرنہ رہنے دیں گے تو کیا غیراسلام پروہ کر زندہ نہیں رہ سکتے ذرا ذہنیت تودیکھئے کہ جوہندو چاہیں گے اسکو گوارا کرلیں گے اس درجہ تک بوبت پہنچ چکی ہے ۔ اللہم احفظنا ۔
