(ملفوظ 216)تکرار فرائض کو فقہاء نے منع کیا ہے :

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اہل طریق پراعراض کرنے والے بدفہم ہیں ورنہ یہ حضرات ہرگز قابل ملامت نہیں مگر مدامت کرنے والوں کو ان کے عذر کی خبر نہیں دیکھئے تکرار فرض کو فقہاء منع کرتے ہیں مگر بوقت وفات حضرت سلطان جی کی یہ حالت تھی کہ باربار غشی سے اٹھتے اور پوچھتے کہ میں نے نماز پڑھی یا نہیں عرض کیا جاتا کہ پڑھ چکے شدت شوق عبادت میں فرماتے لاؤ پھر پڑھ لو نہ معلوم پھر کیا موقع ہے ایسے عاشق لوگوں پرکیا ملامت فقہا بھی اصل سے اس کے مانع نہیں منع کی علت یہ فرماتے ہیں کہ تکرار فرض منسوخ ہوگیا اس سے معلوم ہوا کہ پہلے مشروع تھا سویہ منسوخ ہونا خود مجتہدین میں مختلف فیہ ہوسکتا ہے تو ممکن ہے کہ سلطان ہی کے نزدیک منسوخ نہ ہوا ہو اور کسی ایسے عالم محقق کا مجتہد ہونا غیرمجتہد فیہ ہوسکتا ہے علماء اورمشائخ کے ایسے اختلاف میں ہمارے حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کا یہ فیصلہ تھا کہ اگراعمال ظاہرہ میں اختلاف ہوتو فقہاء کے مسئلہ پرعمل کرتا ہوں اور اگر اعمال باطنہ میں اختلاف ہوتو صوفیہ کے قول پرعمل کرتا ہوں سبحان اللہ کیسا عجیب اور حکیمانہ فیصلہ ہے ۔