ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ کام کرنے والوں کی اور طلب صادق کی شان ہی جدا ہوتی ہے ایک سلطنت کے وزیر ایک بزرگ سے ملنے گئے بزرگ نے بادشاہ کا مزاج دریافت کیا وزیر نے عرض کیا کہ حضور بادشاہ کا مزاج تحقیق کرتے کرتے تو ساری عمر گذرگی میں تو یہاں اپنا مزاج معلوم کرنے آیا بزرگ نے فرمایا کہ میں نے تو تمہاری دل جوئی کی غرض سے پوچھ لیا تھا ۔ دیکھئے وزیر میں طلب صادق تھی کیسی کام کی بات کی ، بعض لوگ زمانہ طاعون میں خطوط سے پوچھتے ہیں کہ طاعون وہاں تو نہیں میں یہ شعرلکھ دیتا ہوں
ماقصہ سکندر و دارا نخواند ایم ٭ از ما بجز حکایت مہر و وفا مپرس
( ہم نے سکندرودار کے قصے نہیں پڑھے پڑھے ہم سے محبت کی باتوں کے سوااور کچھ مت پوچھو ۔ 12) ان فضولیات میں لوگ مبتلا ہیں جو وقت کا صائع کرنا ہے دیکھئے اگر کوئی شخص طبیب کے پاس جاکر بجائے نسخہ لکھوانے کے طبیب سے پوچھے کہ تمہارے کس قدر اولاد ہے کس قدر جائیداد ہے کس قدر آمدنی ہے یہ فضولیات ہیں یا نہیں کیوں اپنا اور اس کا ضائع جس غرض سے اور مقصود لے کر طبیب کے پاس گیا ہے اس کے متعلق پوچھ گن کرنا چاہئے حضرت مولانا محمود حسن صاحب رحمتہ اللہ علیہ دیوبندی میرے استاد ہیں قبلہ ہیں کعبہ ہیں مگر مجھے اج تک معلوم نہیں کہ مولانا کے کس قدر اولاد ہیں نہ ہمارے بزرگوں کا یہ طرق ہے ۔
