ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہ طلباء کا طبقہ نہایت ذہین ہوتا ہے اساتذہ تک کو پریشان کردیتے ہیں بعض طلبہ یہاں پرسوال لکھ کر بھیجتے ہیں میں لکھ دیتا ہوں کہ اپنے اساتذہ سے پوچھو پھر لکتھے ہیں کہ پوچھا تھا تسلی نہیں ہوئی میں لکھتا ہوں کہ وہ تقریر لکھو کہ تم نے کیا سوال کیا اور انہوں نے کیا تقریر کی بس گم ہوجاتے ہیں اس وقت ایک طالبعلم کی ذہانت کی حکایت یاد آئی ۔ میں جس وقت کانپور مدرسہ میں تھا تو ایک غلطی پرمیں نے اس طالب علم کی روٹی بند کردی اس پراس نے ایک رقعہ مجھ کولکھا اور یہ شعر لکھا
خدائے راست مسلم بزرگواری وحلم ٭ کہ جرم بیند ونان برقرار میدارد
( اللہ تعالیٰ ہی کیلئے بزرگواری اور حلم ثابت ہے جو جرم دیکھتا ہے اور روٹی بند نہیں کرتا ۔ 12)
میں نے لکھا کہ میاں تم نے خود ہی جواب دیا یا مجھے سوچنے اور غورفکر کرنے کی بھی تکلیف نہ ہوئی کہ یہ خدا ہی کا کام ہے کہ باوجود جرم اور قصور کے بھی بندہ کا رزق بند نہیں کرتا پھر مخلوق سے اس کی کیوں توقع رکھتے ہو۔
