ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ تبلیغ کرنے کے بھی حدود اصول ہیں ہم کو ہرچیز کی تعلیم دی گئی ہے اور تعلیم بھی وہ نہایت پاکیزہ بڑے بڑے فلاسفہ اس کی مثال پیش نہیں کرسکتے دیکھئے حضورﷺ کو قرآن پاک میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ آپ اس فکر میں نہ پڑئیے کہ یہ ایمان ہی لے آئیں آپ تو حکم پہنچا دیجئے اگر نہ مانیں تو چھوڑ دیجئے چاہے سارے دوزخ میں جائیں کس قدر مغز اور پاکیزہ تعلیم ہے اس میں راز یہ ہے کہ کہیں ثمرہ مرتب ہونے کو مقصود نہ سمجھا جائے اس صورت میں کام کرنے والے کو کبھی الجھن نہیں ہوسکتی اور نہ ہمت ٹوٹ سکتی ہے اس کے خلاف میں یہ ہوتا ہے کہ اگر ثمرات کو مرتب ہوتے دیکھا جائے تو کام کرتے رہیں اور اگرثمرات کومرتب ہوتے نہ دیکھا جائے تو ہمت توڑ کے بیٹھ جائیں تبلیغ کرنا خود مقصود مستقل ہے یہی ہمیشہ اپنے بزرگوں کا مسلک رہا اس باب میں ان کی نظر میں ایک ہی ثمرہ تھا یعنی خدا کو راضی کرنا اور یہ ہر وقت حاصل ہوسکتا ہے خواہ تبلیغ مؤثر ہو یا نہ ہو اور اصل بات یہ ہے کہ جو کام اختیاری ہے اس کو تو انسان تکمیل کرسکتا ہے اور غیر اختیاری کی فکر میں پڑکراصل مقصود سے دور جا پرڑتا ہے سو تبلیغ کرنا اختیاری ہے اور ثمرہ مرتب ہونا اختیاری کو کرے غیراختیاری کے درپے نہ ہو ورنہ وہ اختیاری بھی ہاتھ سے جاتا رہتا ہے۔
