ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ شیخ کے لئے یہ بھی لوازم اور آداب طریق سے ہے کہ طالب کی تجویزوں کو فنا کر دیا جاوے اور اس کو مصلح ہی سمجھ سکتا ہے اور وہی مناسب تجویز کر سکتا ہے ـ طالب کی تجویزوں کو فنا کر دیا جاوے اور اس کو مصلح ہی سمجھ سکتا ہے اور وہی مناسب تجویز کر سکتا ہے ـ طالب کو اس میں چوں و چرا نہ کرنا چاہئے ـ اور یہ بھی یاد رکھنے کی بات ہے عقیدہ کی بات ہے کہ مصلح سے بھی کبھی غلطی ہو جاتی ہے ـ اس لئے کہ اس نے بھی تو قرائن وجدان ہی پر تشخیص اور تجویز کی ہے ـ چناچہ حضرت غوث پاک کے باس ایک شخص بیعت ہونے آ گیا ـ آپ نے کشف سے سمجھ کر بیعت کرنے سے انکار فرما دیا ـ ان کے ہمعصر حضرت شیخ احمد کبیر رفاعی تھے ـ وہ ان کے پاس گیا ـ انہوں نے اس کی بیعت کو قبول فرما لیا ـ اس کی بیعت کو قبول فرمالیا ـ سو یہ امور وجدانی اور ذوقی ہیں ہیں ـ ان قرائن میں کبھی غلطی بھی ہوجاتی ہے اور ایسی غلطی یہ اہل فن کے کمال کے منافی نہیں ـ غرض شیخ سے بھی غلطی ہوتی ہے ـ لیکن طالب کو اس سے مزاحمت کا حق نہیں کیونکہ اول تو ایسی غلطی بہت کم ہوتی ہے ـ دوسرے اس کو جلد تنبہ ہو جاتا ہے ـ
