ملفوظ( 174)طالب کی اصلاح میں کمی کرنا خیانت ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں ہر شخص کے ساتھ یہ چاہتا ہوں کہ بات صاف ہو معاملہ صاف ہو اس میں تلبیس نہ ہو ایہام نہ ہو خصوص ان لوگوں سے جو محبت کا دعوی کرتے ہیں تعلق کا دعوی کرتے ہیں ان کی تو اگر ذراسی بات بھی بے ڈھنگی ہوتی ہے تق برداشت نہیں کر سکتا اور اصل بات یہ ہے کہ اصلاح موقوف ہے فہم پر اور فہم لوگوں میں نہیں پھر اصلاح کس طرح ہو اگر میں ان کی بہودگیوں پر سکوت کروں تو یہ ہو سکتا ہے کیا مشکل ہے بلکہ اس میں مجھے راحت بھی ہے مگر میں ایسے سکوت کو خیانت سمجھتا ہوں جیسے مریض طبیب کے پاس جائے اور طبیب اس مریض کے مرض پر اطلاع نہ دے اس کے مرض کو چھپائے کیا یہ خیانت نہیں اور تف ہے ایسے چھپانے پر اور ایسی خوش اخلاقی پر جو آج کل کے رسمی پیروں کے ہاں مروج ہے اب تو خلاصہ اس تعلق کا یہ رہ گیا ہے کہ مرید نے ہاتھ پاؤں چوم لئے نذرانہ پیش کر دیا آگے نہ مرید کو اصلاح کی ضرورت نہ پیر کو احتساب کی ضرورت شمع کی طرح پیر صاحب بیچ میں بیٹھے ہیں اور پروانے ( مرید چہار طرف جمع ہیں سو مجھ کو تو یہ طرز کسی درجہ میں بھی پسند نہیں لیکن اگر اس کے مقابلہ میں کسی کو ہمارا طرز بھی پسند نہ ہو تو ہم یہ کہتے ہیں کہ یہاں مت آؤ اور اگر آگے ہو اور دھوکا ہو گیا ہے تو اب چلے جاؤ بلانے کون جاتا ہے اور اگر باوجود ہمارے اس طرز کے بھی ہم کوئی لپٹے تو پھر اس طرز کے حقوق ادا کرو بقول عارف شرازی ـ
یامکن با پلیبا نان دوستی یا بنا کن خانہ بر انداز پیل
یامکش بر چہرہ نیل عاشق یا فرد شو جامہ تقوی بہ نیل
( یا تو ہاتھی والے سے دوستی نہ کرو یا گھر ایسا بناؤ جہاں ہوتھی آسکے یو تو عاشقی کا دعویٰ نہ کرو اور اگر کرتے ہو تو تقویٰ کو خیر باد کہو )
اور یہ حقوق وہ ہونگے جن کو ہم حقوق سمجھتے ہیں وہ نہیں جن کو تم حقوق سمجھتے ہو اور اگر کسی سے یہ ہو سکتا تو ہم سے تعلق مت رکھو لوگ تو یہ چاہتے ہیں کہ بلی کے گوہ کی طرح ان کے نقائص کو دبائے رہو سو اگر ایسا کیا گیا تو پھر اصلاح کس طرح ہوگی اور مجھ سے یہ توقع رکھنا کہ میں دوسرے کی حالت کو چھپاؤں مشکل ہے جبکہ میں اس کا اخفا کرنا خیانت سمجھتا ہوں پھر یہ بات بھی تو قابل رہے کہ خود میری حالت کھلی ہوئی ہے بری یا بھلی میں خود اس کو نہیں چھپاتا اگر اس حالت میں میں کسی کو پسند ہوں مجھ سے تعلق پیدا کریں ورنہ اور کہیں جائیں بقول غالب
ہاں وہ تعلق وفا پرست جاؤ وہ بیوفا سہی جسکو ہو جان و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں
میرے طرز کو تشدد کہا جاتا ہے حضرت شیخ اکبر نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ مریدوں کو آپس میں زیادہ نہ ملنے دینا چاہئے کیا یہ بھی تشدد ہے اور واقعی شیخ نے یہ بڑے کام کی بات فرائی اس لئے کہ دیکھا جاتا ہے کہ آپس میں زیادہ نہ ملنے دینا چاہئے کیا یہ بھی تشدد ہے اور واقعی شیخ نے یہ بڑے کام کی بات فرمائی اس لئے کہ دیکھا جاتا ہے کہ آپس میں بیٹھ کر کہیں شاعری ہو رہی ہے لطیفے ہو رہے ہیں بے سمجھے نکات و اسرار بیان ہو رہے ہیں غرض یونہی وقت فضول بیکار برباد کیا جاتا ہے نہ ذکر ہے نہ شغل ہے نہ فکر نہ تلاوت ہے نہ نفل ہیں بس مجالس ہی مجالس رہ جاتی ہے اور حضرت شیخ اکبر تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ اگر کوئی مرید شیخ سے کسی تعلیم کی مصلحت پوچھے اس کو نکال دو ایک بزرگ کا واقعہ ہے کہ جب کوئی طالب آکر بیعت کا سوال کرتا ہے تو آپ کھانے میں امتحان لیتے کہ کھانا کھا چکنے کے بعد جو کھانا بچا ہے اس میں روٹی سالن تناسب سے بچایا نہیں اگر تناسب نہ ہوتا تو بیعت سے عزر فرمادیتے کہ تمہاری طبیعت میں انتظام نہیں ہمارے یہاں تمہارا نباہ نہ ہوگا اور بزرگوں نے ہمیشہ طالبوں کے بڑے بڑے سخت امتحانات لئے ہیں میرے یہاں تو پھر بھی بہت وسعت ہے باقی میرا اصلی مذاق یہی ہے کہ قبل مرید کے تو اس کی دوستی کے حقوق کو پورے طور سے محفوظ رکھتا ہوں ـ مگر بعد مرید ہونے کے پھر دوستی کے علاقہ کو نا پسند کرتا ہوں اس وقت مریض اور طبیب کے علاقہ کی ضرورت ہے مگر لوگوں کو خبر نہیں اس طریق کی اور اس کے آداب کی اور عوام تو بیچارے کس شمار میں ہیں اکثر علماء تک کو خبر نہیں اور اللہ میں تو بہت رعایتیں کرتا ہوں مگر اسی کے ساتھ یہ بھی ہے کہ میں غلامی بھی نہیں کرتا ایک مولوی صاحب ہیں ان کو میری سیاست کے وقت لوگوں پر بہت رحم آتا تھا میں نے ان کو ایک رسالہ آداب الشیخ دیا کہ اس کو بغور دیکھئے یہ رسالہ شیخ اکبر کے ایک رسالہ کا ترجمہ ہے اصل رسالہ عربی میں تھا اس کا میرے ایک دوست نے اردو میں ترجمہ کر دیا ہے انہوں نے دیکھا کہنے لگے کہ یہ تو آپ سے بھی کہیں آگے بڑھے ہوئے ہیں اس کے بعد انکا تشدد کا گمان رفع ہوا ـ