ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ تعلقات اور مشاغل غیرضروری کو سب کو قطع کردیا البتہ جوضروری ہیں وہ مستثنٰے ہیں اب میں اس کا لوگوں کوکس طرح یقین دلاؤں یہ وجدانی اورذوقی بات ہے کہ ان حضرات کو کسی چیزسے دنیوی محبت نہیں البتہ ضرورت کا اور شفقت کا تعلق ہے میں نے ایک تذکرہ میں دیکھا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت امام حسین کو گود میں لئے بیٹھے تھے انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا آپ کو مجھ سے محبت ہے فرمایا ہاں کہا کہ اور بھائی سے بھی فرمایا ہاں پوچھا اوراماں سے بھی فرمایا کہ ہاں ، کہاں کہ دل کیا ہے سرائے ہے ایک کوٹھری میں ایک مسافر پھرپوچھا کہ اگرآپ کو اختیار دیا جائے کہ یا تو خدا اور رسول سے تعلق رکھا جائے یا گھروالوں سے اس وقت آپ کیا کریں گے فرمایا کہ گھروالوں کوچھوڑدوں گا کہا کہ بس تویوں فرمایئے کہ گھروالوں پرصرف شفقت ہے باقی محبت اللہ ورسول ہی سے ہے اور اس محبت کےلئے جتنے غیرضروری تعلقات کم ہوں یہ معین ہوتے ہیں حضرت حق کی محبت میں ان تحریکات میں میرے شریک نہ ہونے کے اسباب میں سے یہ بھی ہے کہ اس میں غیر ضروری تعلقات کوخاص دخل ہے مثلا بلاضروت دوسروں کو آمادہ کرنا رغبت دلانا ارے بھائی فلاں کام کرلو سواس سے مجھ کوبڑی کلفت ہوتی ہے کیونکہ اس میں ہروقت یہ ہی خیال رہے گا کہ فلاں شخص اس کام کے کرنے پرراضی ہے یا نہیں اور اگر راضی ہوکر الگ ہوگیا توکام کیسے چلے گا سواس ضیق میں کون پڑے حق سبحانہ ، تعالیٰ ایسی ہی مشغولی اور تصدی ( پیچھے پڑنے ) کے متعلق فرماتے ہیں ، امامن استغنٰے فانت لہ تصدی وما علیک الایزکٰی وامامن جآءک یسعٰی وھو یخشٰی فانت عنہ تلھٰی کلا انھا تذکرہ فمن شاءذکرہ اور ایک مقام پرفرماتے ہیں ۔ ( توجوشخص بے پرواہی کرتا ہے آپ اس کی توفکر میں پڑھتے ہیں حالانکہ آپ پرکوئی الزام نہیں کہ وہ نہ سنورے اور جوشخص آپ کے پاس دوڑتا ہوا آتا ہے اور ڈرتا ہے آپ اس سے بے اعتنائی کرتے ہیں ہرگز ایسا نہ کیجئے ،قرآن نصیحت کی چیز ہے سو جس کا جی چاہے اس کو قبول کرے 12۔) وان کان کبرعلیک اعراضہم فان استطعت ان تبتغی نفقا فی الارض اوسلما فی السمآء فتاتیھم بآیۃ ۔ ( اوراگر آپ کو ان کا اعراض گراں گزرتا ہے تواگر آپ کویہ قدرت ہے کہ زمین میں کوئی سرنگ یا آسمان میں کوئی سیڑھی ڈھونڈلو ، پھرکوئی معجزہ لے آؤ توکرو)
اور ایک جگہ فرماتے ہیں ۔ ولقد نعلم انک یضیق صدرک بمایقولون ( اور واقعی ہم کو معلوم ہے کہ یہ لوگ جوباتیں کرتے ہیں اس سے آپ تنگ دل ہوتے ہیں ) غرض جابجا قرآن میں مصرح ہے کہ اس کا شدید اہتمام نہ کیجئے کہ ہدایت ہوہی جائے اور اس تعلیم خداوندی میں ایک رازہے وہ یہ کہ آزادی اور اعتدال کی صورت میں ہمیشہ کرسکتا ہے اسی بناء پرحق تعالٰی فرماتے ہیں کہ اس ثمرہ کے منتظر نہ رہنا چاہئے جس کواہل ظاہرہ ثمرہ کہتے ہیں چنانچہ ارشاد ہے ، انک لا تھدی من احببت ولکن اللہ یہدی من یشآء ( آپ جس کو چاہیں ہدایت نہیں کرسکتے بلکہ اللہ جس کوچاہے ہدایت کردیتا ہے ) سبحان اللہ کیا پاکیزہ اورپرمغز تعلیم ہے چنانچہ یہ فرمایا کرکہ ولقد نعلم انک یضیق صدرک اس سے بچا دیا کہ ضیق صدرمٰیں کیوں مبتلا ہوا جائے چھوڑیئے اس کوجیسے لڑکا پڑھنا نہ چاہے اور استاد پڑھانا چاہے توسخت کوفت ہوتی ہے بس اس کا علاج یہ ہی ہے کہ ایک دوبارتقریر کردے اور کہہ دے کہ جاؤ بھاگو بلاضرورت دوسروں کی فکر میں پڑنا اس کی نسبت ماموں صاحب فرمایا کرتے تھے کہ دوسروں کی جوتیوں کی حفاظت کی بدولت کہیں اپنی گٹھڑی نہ اٹھوا دینا ہندؤں کا ایک میلہ تھا وہاں کچھ عورتیں نہانے گئیں اوراپنا زیور اتار کرایک شخص کودیدیا کہ اس کو طشت کے نیچے رکھ کراس طشت پربیٹھے رہنا کسی نے دیکھ لیا اورپاس کو اس طرح گذرا کہ دوچار اشرفیاں ٹپکا کرآگے بڑھ گیا یہ محافظ ان کولینے کواٹھا اس چور کا ساتھی پیچھے تھا بس طشت کواٹھا کر سب زیور اوڑالے گیا بس یہی حالت ہوجاتی ہے اس شخص کی بھی دوسروں کی اصلاح کی فکر میں خود کو بھی خراب کرلیتے ہیں جیسے لڑکے پڑھانے کی مثال میں لڑکے پربلا ضرورت محنت ہوئی اورخود اپنا دماغ خراب کرلیا اور لڑکے کو کچھ نفع نہ ہوا ۔
