ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اکثر خرابیاں تعلقات بڑھانے کی ہیں ان کوکم کرنا چاہئے میں نے تو صرف ایک تعلق کو مستثنٰے کیا ہے یعنی تصنیف کے کام کو کہ اس سےخود کو بھی نفع ہے اوردوسروں کوبھی نفع پہنچتا ہے اسی لئے علماء کا قول ہے کہ طول امل (لمبی لمبی امیدیں باندھنا ) ہرچیز میں برا ہے الافی العلم ( مگرعلم میں ) یہ استثناء اس لئے ہے کہ یہ آلہ ہے دین کا اورطول امل کی ممانعت ہے آلات فی الغفلت میں نیزیہ علم معین ذکر ہے ذکراللہ میں جو کہ مقصود طریق ہے اور اپنے قوٰی کودیکھ کرکچھ روزسے یہ بھی چاہ رہا ہوں کہ تصنیف بھی بند کردوں مگرمیں اس سے بھی ڈرتا ہوں کہ کہیں ذکرکے لیے بھی قلب خالی نہ ہو اور تصنیف بھی نہ رہے اگر ایسا ہوا تواورکچھ اعمال توہیں نہیں شاید یہی عمل قبول ہوجائے کہ تصنیف سے کوئی نیک بندہ منتفع ہو اور وہی ذریعہ نجات ہوجائے اس لئے میں اس عارض کی وجہ سے اس کو ذکر سے افضل سمجھتا ہوں گو فی نفسہ افضل تو وہی ذکرہے اب رہا یہ کہ تصنیف اعمال متعدیہ میں سے ہے اور اس میں مشغول ہونا افضل ہے یا اعمال لازمہ میں سو عقل تو اعمال متعدد ہی کوترجیح دیتی ہے مگر طبیعت مذاق اعمال لازمہ کو ترجیح دیتا ہے ۔
